گوداوری کھنی ۔ 19 ۔ جون ( ذریعہ فیاکس ) جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ اجتماع عام میں ’’ معاملات زندگی ‘‘ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے عبدالرقیب حامد لطیفی ناظم علاقہ تلنگانہ نے کہا کہ انسان ، آخرت میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں جواب دہ ہے ۔ مسلم معاشرہ میں عبادات کے ادا کر کے ایک بڑا طبقہ مطمئن ہے کہ یہ آخرت کی نجات کیلئے کافی ہے جبکہ معاملات زندگی کے بارے میں قرآن اور حدیث میں بڑی تاکید آئی ہے ۔ معاملات زندگی میں حلال روزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حلال روزی سے اللہ تعالی انسان میں بصیرت اور تقوی کا نور پیدا فرماتا ہے اور یہ دنیا اور آخرت میں عزت اور سربلندی کا ذریعہ ہے ۔ ساتھ ہی ہر قسم کی حرام کمائی سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ جہیز اور لین دین کے معاملات اور ان سے پیدا شدہ مسائل کا ذکر کیا ۔ مزید کہا کہ ترکہ میں خواتین کے حصہ کو یہ کہہ کر روک لیا جارہا ہے کہ لڑکی کی شادی پر والدین نے بہت خرچ کیا ۔ جبکہ لڑکی کے شادی بیاہ کے اخراجات والدین کا ذمہ ہے اور ترکہ کے حق کو اللہ تعالی نے متعین کردیا ہے ۔ العزض معاملات زندگی اسلامی احکام کے مطابق ہونا ہی آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے ۔ عرشیہ آفاقی نے ’’ استقبال رمضان ‘‘ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے ۔ اس کے ایک ایک لمحہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو ہماری نجات کیلئے ذریعہ بنانا چاہئے ۔ حمیدہ بیگم نے اجتماع کی غرض وغایت بیان کی اور خواتین سے خواہش کی مختلف حلقوں میں ہونے والے اجتماعات میں شرکت کریں۔عبدالحفیظ نے سورۃ المنومنون کی ابتدائی آیات پر درس قرآن میں کہا کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا جو کوئی ان آیات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالے گا یقیناً جنت میں جائیگا ۔ حسین خان نے فکر آخرت کے عنوان پر سیرت ؐ اور صحابہ کی زندگی کے واقعات کے ذریعہ واضح کیا کہ ہر شخص یہ دیکھے کل یعنی قیامت کیلئے کیا تیاری کی ہے ۔ کارروائی محمد اسمعیل نے چلائی۔