راہول گاندھی اپنی سیاسی زندگی پر تذبدب کا شکار

نئی دہلی ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی طویل رخصت کے بعد واپسی پر انہیں طنزیہ انداز میں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوام سے یہ وضاحت کریں کہ آیا وہ سیاست میں برقرار رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ پارٹی نے یہ بھی طعنہ دیا کہ اپوزیشن تو قیادت کے بحران سے دوچار ہے اور کس طرح حکومت سے نبردآزما ہوسکتی ہے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے راہول گاندھی ہمیشہ غلط وجوہات کی بناء خبروں میں رہتے ہیں۔

بی جے پی ترجمان سمبٹ پاترا نے راہول کی واپسی پر کانگریس کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نائب صدر اور ان کی پارٹی اپنے مستقبل پر تذبذب کا شکار ہیں۔ راہول گاندھی کی زندگی الجھن بھری ہوتی ہے اور وہ خود نہیں جانتے کہ اپنی زندگی کے ساتھ کیا کریں گے؟ آیا وہ سیاست میں برقرار رہنا چاہتے ہیں تو عوام کو واضح طور پر بتادیں۔ بی جے پی ترجمان نے کہا کہ کانگریس بھی راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل پر فکرمند اور الجھن کا شکار ہیکہ انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے یا پھر ان کا قصد گھٹا دیا جائے اور اس تگ ودو میں ممکن ہیکہ کانگریس میں پھوٹ پڑجائے گی۔ انہوں نے کانگریس اب بغیر کپتان کا بحری جہاز بن گئی ہے اور قیادت کے بحران سے دوچار ہے۔ مسٹر پاترا نے کہا کہ کانگریس کی قیادت کے مسئلہ پر سینئر پارٹی قائدین متضاد رائے پیش کررہے ہیں۔

پارٹی کا ایک بڑا گروپ بحیثیت صدر سونیا گاندھی کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے اور بعض قائدین راہول گاندھی کو قیادت کی باگ ڈور حوالے کرنا چاہتے ہیں اور ہندوستانی سیاست میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک پارٹی کے اہم لیڈر نے راہ فرار اختیار کرلی اور اس کی واپسی خود ایک بڑی خبر بن گئی ہے کیونکہ تمام غلط وجوہات کی بناء ایسا ہوا ہے۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے کہا کہ یہ کانگریس کیلئے لمحہ فکر ہیکہ راہول گاندھی اچانک غائب اور منظرعام پر آکر خبروں میں چھا گئے۔ دریں اثناء شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہیکہ کانگریس لیڈر ملک کے بارے میں فکرمند ہونے کی بجائے اپنی پارٹی اور خود سے متعلق غوروخوض کریں۔ واضح رہیکہ راہول گاندھی تقریباً 56 یوم تک سیاسی منظر سے غائب رہنے کے بعد آج دوبارہ نمودار ہوئے ہیں جس پر حکمراں بی جے پی نے طنز و تعریض سے بھرپور تبصرے کئے ہیں۔