دیپم اسکیم سے ایل پی جی کنکشن کی عدم سربراہی

یلاریڈی ۔ 13 ۔ فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اندرا کرانتی پدم کی زیرنگرانی خواتین گروپ ارکان کو پکوان گیس سلینڈرس دینے کی غرض سے ہی دیپم اسکیم کو روبہ عمل لایا گیا تھا اور عام انتخابات سے قبل ہی دیپم اسکیم کے تحت 17 ہزار نئے ایل پی جی کنکشن گذشتہ حکومت نے ہی منظور کئے گئے لیکن الیکشن کوڈ عمل میں آنے سے دیپم اسکیم کیلئے مستحقین کے انتخاب روکدیا گیا ۔ مگر تلنگانہ کی جدید سرکار اقتدار میں آئے سات ماہ کا طویل عرصہ گذر چکا ہے پھر بھی دیپم اسکیم کے تحت صارفین کا انتخاب کرنے کے اقدامات کا آغاز نہ کیا ۔ خواتین گروپ سنگموں میں زیادہ غریب ، متوسط درجہ والے ہونے کی وجہ سے انہیں ایل پی جی کنکشن لینے کی حیثیت نہ ہونے پر حکومت نے خود دیپم اسکیم کا آغاز کیا تھا ۔ ضلع بھر میں 424574 افراد خواتین ارکان ہیں اور اب تک ایک لاکھ 50 ہزار دیپم کنکشن گزشتہ حکومتیں سربراہ کیں ہیں ۔ اب جدید کنکشن کیلئے 2500 روپئے سے تین ہزار روپئے تک خرچ ہورہا ہے اور دیپم اسکیم کے تحت صرف 600 سو روپئے سے ایل پی جی کنکشن حاصل کرسکتے ہیں ۔ دیپم اسکیم کے مستحقین کا انتخاب کیلئے کوئی اقدامات نہیں کررہی ہے جس سے گروپ خواتین میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ منظور کئے گئے نئے کنکشن محکمہ سیول سپلائی حدود میں ہیں ۔ سرکار کی جانب سے منظوری و سربراہی کا اشارہ آتے ہی عہدیدار سربراہی کیلئے تیار ہیں ۔ ایک طرف لکڑی کی شدید قلت اور اوزاں فروشی دوکانات میں سربراہ کیا جانے والا کیروسین کوٹہ بھی تخفیف کر کے دیئے جانے پر غریب عوام کو دشواری ہورہی ہے ۔ ایل پی جی کنکشن کیلئے ضروری رقم نہ ہونے سے خواتین فکر مند ہیں ۔ دیپم اسکیم کے تحت مستحقین کا انتخاب کیا گیا تو گروپ خواتین کو راحت ملے گی ۔ تلنگانہ سرکار اس طرف توجہ مرکوز کر کے منظور ہوئے نئے کنکشن کیلئے مستحقین کا انتخاب کیا جائے ۔ اس طرح غریب گروپ خواتین کو اقتدار کے اتنے عرصہ بعد تک ایل پی جی گیس کنکشن سے محروم رکھنا تلنگانہ سرکار کیلئے شوبھا نہیں دیتا ۔ خواتین کے طویل انتظار کو تلنگانہ سرکار ختم کرتے ہوئے دیپم اسکیم سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرے ۔