دہلی میں حکومت تشکیل دینے بی جے پی کبھی سودے بازی نہیں کرے گی: راجناتھ سنگھ

نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج اِن خبروں کو مسترد کردیا کہ وہ دیگر پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کو دہلی میں حکومت تشکیل دینے کے لئے لالچ دے رہی ہے اور کہاکہ پارٹی کبھی بھی ارکان مقننہ کی خرید و فروخت میں ملوث نہیں رہی اور نہ آئندہ کبھی رہے گی۔ سابق صدر بی جے پی راجناتھ سنگھ مرکزی وزیرداخلہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی نے کبھی بھی ارکان مقننہ کی خرید و فروخت نہیں کی ہے اور نہ آئندہ کرے گی، یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنھوں نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروندکجریوال کے اِن الزامات کو بھی بکواس قرار دیا کہ بعض اپوزیشن ارکان اسمبلی کا بی جے پی شکار کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ دہلی میں حکومت تشکیل دے سکے۔ تاہم مرکزی وزیرداخلہ نے بی جے پی کے آئندہ دہلی میں حکومت تشکیل دینے کے امکانات کے بارے میں سوال کا راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہاکہ بہتر ہوگا کہ یہ سوال آپ صدر بی جے پی امیت شاہ سے کریں۔ میں اِس بارے میں کوئی معلومات اور واقفیت نہیں رکھتا۔ اِس سوال پر کہ لیفٹننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ نے ہدایت دی ہے کہ حکومت تشکیل دینے پہل کی جائے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ایسی کوئی ہدایت وزارت داخلہ کی جانب سے نہیں دی گئی ہے۔ دہلی فی الحال صدر راج کے تحت ہے۔ کجریوال حکومت کے وسط فروری میں مستعفی ہونے کے بعد دہلی میں صدر راج نافذ کردیا گیا تھا۔ تاحال بی جے پی اکثریت حاصل نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے سے پیچھے ہٹتی رہی ہے۔ دہلی بی جے پی کے نئے صدر ستیش اوپادھیائے نے کل کہا تھا کہ پارٹی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرے گی۔ بشرطیکہ لیفٹننٹ گورنر اُسے مدعو کریں۔ بی جے پی کے تمام ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ جو دہلی سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کے خیال میں پارٹی حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔ تاہم اِس سلسلہ میں قطعی فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی کی برازیل سے واپسی کے بعد کیا جائے گا۔