دھوکہ دہی کے الزام میں پروفیسر گرفتار

ایس ایم بلال
حیدرآباد24 اکٹوبر ۔ آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری میں ایک پروفیسر کی گرفتاری نے کئی پولیس عہدیداروں کو پریشان کردیا ہے ۔ پروفیسر غوث محی الدین کو مغربی گودواری کی ایلورو پولیس نے دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے جبکہ کئی اعلی عہدیدار غوث محی الدین کی گرفتار ی پر تذبذب کا شکار ہیں ۔ ایک شخص نے ایلورو پولیس سے اپنی شکایت درج کروائی ہے جس میں الزام عائد کیا ہے کہ سب انسپکٹر کی نوکری دلوانے کے بہانے پروفیسر غوث محی الدین نے انہیں دھوکہ دیا ہے ۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پروفیسر کے خلاف تعزیرات ہند کی دفع 420 (دھوکہ دہی ) اور 506 ( دھمکانہ)کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا ہے ۔ سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس کے ملک بوائے کے نام سے پولیس حلقہ میں مشہور پروفیسر غوث نے گرفتاری کے فوری بعد سینے میں تکلیف کی شکایت کی جس کے بعد اسے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ مقدمہ درج کئے جانے کے فوری بعد ایلورو پولیس نے پروفیسر کے مکان پر دھاوا کیا اور وہاں سے مبینہ طور پر 51 درخواستیں برآمد کرلی جو سب انسپکٹر کے عہدہ سے لیکر ڈی آئی جی کے رتبہ کی ہیں ۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مغربی گوداوری ڈاکٹرکُلی رگھو رام ریڈی نے بتایا کہ دھوکہ دہی کی شکایت پر پروفیسر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ اور اس کی سرگرمیوں کی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی ۔ باور کیا جاتا ہے کہ پروفیسر غوث کو پولیس کیس سے بچانے کیلئے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے رتبے کے تین اور ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس رتبے کے عہدیدار سرگرم ہوگئے اور اس کی رہائی کیلئے کوششیں کرنے لگے جبکہ ایک سابق ڈی جی پی نے بھی مقامی پولیس کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بعض عہدیداروں کی مدد سے اس پروفیسر نے اراضی تنازعوں کی یکسوئی میں بھی حصہ لیا ہے اور اس کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔