استنبول میں حکومت ترکی کے زیراہتمام ترکی ۔شام چوٹی کانفرنس ‘روس اور جرمنی کی بھی شرکت
دمشق ،28اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام)اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے دہشت گردوں نے مشرقی شام میں امریکی حامی شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) کے 70جنگجوؤں کو قتل کردیا۔ ژنہوا نے انسانی حقوق تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا کہ آئی ایس نے جمعہ اور ہفتے کو ایس ڈی ایف پر حملے کرکے 70جنگجوؤں کو قتل کردیا۔اس دوران دہشت گرد تنظیم نے دیر الجوئر کے ان علاقوں پر پھر سے قبضہ کرلیا جہاں سے ایس ڈی ایف کے جنگجوؤں نے پہلے انہیں کھدیڑ دیاتھا۔انسانی حقوق تنظیم نے بتایا کہ ایس ڈی ایف کو حمایت دینے والے امریکی قیادت واکے اتحادی لڑاکا تیارے آئی ایس کے حملے کے دوران موسم خراب ہونے کی وجہ سے جنگجوؤں کی مدد نہیں کرسکے ۔اس نے بتایا کہ عراق کی سرحد سے متصل دیرالجوئر کے مشرقی علاقے کے کچھ شہروں میں ابھی بھی آئی ایس کے تقریباً 4000دہشت گرد موجود ہیں۔یہ حملہ 2017کی شروعات سے اب تک ایس ڈی ایف کے خلاف آئی ایس کا سب سے پرتشدد حملہ تھا۔حملے کے بعد سے 10جنگجو لاپتہ بھی ہیں۔ ترکی، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کی موجودگی میں ہفتہ کو استنبول میں شام کے معاملہ پر بات چیت کے لئے چار ملکی سربراہی مذاکرات کی شروعات ہوگئی ہے ۔اس مذاکرات میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، روسی صدر ولادیمیر پوٹن، جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اور فرانس کے صدر امانوئل میکرون شام کے بحران پر چار ممالک مذاکرات کریں گے ۔ کانفرنس کے آغاز سے قبل مسٹر پوٹن نے فون پر مسٹر میکرون اور مسٹر رجب طیب اردگان سے بات کی۔اقوام متحدہ کی جانب سے شامی بحران کے حل کیلئے مقرر کئے گئے سفارت کار اسٹیفن دی مستورا بھی اس اجلاس میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسٹر مستورا اپنے گھریلو وجوہات کے سبب اگلے ماہ کے آخر میں یہ عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔شام میں باغیوں کے قبضے والے شہر ادلب میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ہونے والے تشدد کی وجہ سے اس سربراہی اجلاس پر خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے ۔شام میں صدر بشار الاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لئے جنگ لڑ رہے باغیوں کو ترکی طویل عرصہ ان کی حمایت کرتا آیا ہے جبکہ باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں روس کے صدرپوتن بشار الاسد کا ساتھ دے رہے ہیں۔شمال مغربی ادلب میں ایک سویلین علاقہ بنانے کیلئے ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ ماہ ایک معاہدہ ہوا تھا۔سال 2011 میں شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ کے آغاز کرنے والے باغیوں کے قبضے میں اب صرف ادلب اور اس کے آس پاس کے علاقے ہی بچے ہیں۔ باغیوں کے قبضے والے علاقے میں تقریبا 30 لاکھ لوگ رہتے ہیں جن میں نصف سے زائد لوگ سرکاری فوج کے آنے کے بعد دیگر علاقوں کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔روس نے اگست میں ادلب میں فضائی حملے روک دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ جمعہ کو ہوئے حملے میں سات شہریوں کی موت کے بعد اس کانفرنس کے ہونے پر خدشات کے بادل منڈلانے لگے تھے ۔