دورحاضر کا عظیم فتنہ موبائیل فون اور انٹرنیٹ

شکرنگر۔11جون ( فیکس) جامع مسجد شکر نگر میں مولانا سید ولی اللہ قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آمادی دلانے میں اس وقت کے علمائے اکرام ‘ اکابرین اور بزرگان دین کا بہت بڑا حصہ رہا ہے ۔ حضرت قاسم ناناتویؒ ‘ حصرت رشید احمد گنگوہیؒ ‘ حضرت حسین احمد مدنیؒ کے علاوہ ثامال کے میدان میں انگریزوں اور علمائے اکرام کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا ۔ مسلمان مغلوب ہوتا ہوا نظر آیا ۔ حضرت ناناتویؒ اور دیگر تمام علمائے اکرام نے اس ملک کی حفاظت کا اور مسلمانوں کی بقاء کا فیصلہ کیا ۔ ہم طاقت کے بل بوتے پر اس ملک میں نہیں رہ چکتے ‘ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ‘ دینی تعلیم کو عام کرنے اور دینی مدارس کا جال پھیلایا جائے ۔ حضرت شیخ اسلام شیخ حسین احمد مدنیؒ اور تمام نے ملکر یہ اہم فیصلہ کیا ۔ اُس وقت انگریزی حکومت نے اعلان کیا کہ عیسائی مشنری میں بچوں کو مفت تعلیم اور کتابیں دی جائیں گی ۔ لارڈ میکالے نے برطانیہ کا نصاب تعلیم مرتب کیا ‘ اس نصاب کو پڑھنے کے بعد مسلمان باقی نہ رہیں ۔ اس ملک کے اندر اس نصاب تعلیم کو لایاگیا ۔ حضرت ناناتویؒ نے علمائے اکرام سے مشورہ کر کے اعلان کیا کہ ہم دینی مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو قیام ‘ طعام اور ہر چیز مفت دیں گے ۔ اکابرین اور علمائے اکرام کا اُس وقت کا فیصلہ صحیح تھا ۔ انہوں نے انگریزوں کا منہ توڑ جواب دیا تھا ۔ اس وقت مسلمانوں کے سامنے بھی کئی مسائل کھڑے ہیں‘ ہمارے تمام علمائے اکرام ‘ اکابرین ‘ دانشوران قوم بیٹھ کر صحیح فیصلہ نہیں فرمائیں تو اُمت ارتداد کا شکار ہوجائے گی۔ اب وقت کا اہم تقاضہ ہیکہ انگریزی میڈیم کے اسکول علمائے اکرام کی زیرنگرانی قائم کئے جائیں تو 98فیصد بچوں کا دین اسلام محفوظ رہے گا ۔ آج مسلمانوں کے دو فیصد بچے دینی مدارس میں پڑھتے ہیں ۔ عصری تعلیم حاصل کرنے والے 88فیصد بچے ہیں و علم دین سے دور ہیں ۔ اللہ تعالیٰ رزاق ہے کس کو کتنی روزی ملے گی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں ۔ اسلام کیحفاظت کیلئے اللہ تعالیٰ نے دینی مدارس کو ذریعہ بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے دینی مدارس کو چلاتیہیں ‘ اس نظام سے اسلام کی حفاظت ہوگی ۔ آج دنیا میں سب سے بڑا فتنہ موبائیل ہے جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں غلط روش پر چل رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ٹی وی اور انٹرنیٹ نے ہمارے سارے معاشرہ کو بگاڑ دیا ہے ۔ آج دشمنان اسلام خوش ہیں کہ دنیا کے مسلمان ان کے بنائے ہوئے تمام آلات کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق توڑ رہے ہیں ۔ ہمیں وقت ہی نہیں ملتا کہ ہم کچھ دینی کام کرسکیں ۔ آج ہمارے مسلمان گھرانوں کا یہ حال ہیکہ ہم راتوں میں دیر تک جاگتے ہیں اور صبح دیر گئے بیدار ہوتے ہیں ‘ ہماری نماز فجر اور قرآن پاک کی تلاوت نہیں ہوتی اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے دور ہوتے جارہے ہیں ‘ ہمارے رزق میں اس لئے کمی ہورہی ہے ۔ ہم کو اپنے حالات بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور پاکﷺ کے طریقہ پر چلنے ہی میں ہماری دنیا اور آخرت میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ مولانا کی رقت امیز دعا کے بعد گرمائی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات میں انعامات کی تقسیم عمل میں آئی ۔ مولانا لئیق احمد قاسمی امام و خطیب جامع مسجد نے اس جلسہ کی کارروائی چلائی ۔ اس موقع پر جامع مسجد کمیٹی صدر خالد علی ‘ کمیٹی کے دیگر ارکان اختر خان ‘ محمد غوث ‘ اللہ بخش ‘ وحید الدین ‘ عبداکلام ‘ عبدالقووس کے علاوہ علمائے اکرام ‘ حفاظ اکرام اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔