دواؤں کی قلت پر نتیش حکومت بی جے پی کی تنقیدکا نشانہ

پٹنہ۔/17اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن بی جے پی نے آج نتیش کمار حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دواؤں کی کم سربراہی بشمول انسانی زندگی بچانے والی دواؤں کی قلت سرکاری ہاسپٹلس میں پیدا ہوگئی ہے جس کے نتیجہ میں غریب مریض ’’ اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر منحصر ہوگئے ہیں‘‘۔ بی جے پی رکن پریم کمار نے یہ مسئلہ وقفہ صفر کے دوران اٹھایا۔ جلد ہی قائد اپوزیشن نند کشور یادو اور دیگر پارٹی ارکان اسمبلی اپنی نشستوں سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور حکومت کی مذمت کرنے لگے۔ بی جے پی ارکان اسمبلی ایوان کے وسط میں جمع ہوکر حکومت مخالف نعرہ بازی بھی کرنے لگے۔ وزیر برائے اُمور مقننہ شراون کمار نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی روزانہ تشہیر کیلئے ہنگامہ کھڑا کررہی ہے اور کہا کہ جب حکومت ہر ایک سوال کا جواب دینے کیلئے تیار ہے تو اپوزیشن غیر ضروری طور پر ہر نکتہ پر شوروغل کیوں کررہی ہے۔ بعد ازاں قائد اپوزیشن نے اپنے کمرہ میں حکومت کی ناقص حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے انتظامات کی وجہ سے اموات واقع ہورہی ہیں۔ وہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نتیش کمار نے جن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ جنتا پریوار کے انضمام میں مصروف ہیں

اور سیاست میں حد سے زیادہ مصروفیت کی وجہ سے ’’ حکمرانی کی قربانی ‘‘ دے رہے ہیں۔ یادو نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے 33ادویہ مریضوں کو او پی ڈی سے مفت فراہم کرنے کا انتظام کیا تھا اور ہاسپٹلس میں شریک مریضوں کیلئے 112دوائیں مفت فراہم کی جارہی تھیں ان میں بنیادی ادویہ جیسے درد شکن، جراثیم کش ادویات برائے بخار ، زکام، کھانسی شامل تھے لیکن تازہ ترین رپورٹ کے بموجب ظاہر ہوتا ہے کہ ادویہ کی بے انتہا قلت ہے جس کی وجہ سے صورتحال ’’ پریشان کن ‘‘ ہوگئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس رپورٹ کے بموجب 7دوائیں بیٹیا ضلع کے ہسپتالوں میں دستیاب ہیں ۔جہان آباد میں 16، نالندہ میں 24اور روہتاس میں 26دوائیں دستیاب ہیں۔ پھلواری شریف میں دواؤں کی قلت کی وجہ سے عوام کو ہر بیماری پر انجکشن دیئے جارہے ہیں۔ حکومت لاپرواہ ہے اور غریب مریض اللہ کے رحم و کرم پر ہیں۔ جے ڈی یو رکن اظہر احمد نے حکومت سے خواہش کی کہ ریاست میں جعلی ادویہ کی فروخت کے خلاف کارروائی کی جائے۔