بھینسہ /9 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) صدر حلسہ ایس آئی او آندھراپردیش اقبال حسین نے دورہ بھینسہ کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعجاز احمد مرزا جونئیر سائنٹسٹ DRDO کی عدالت کی جانب سے بری کئے جانے کا خیرمقدم کیا ۔ اس موقع پر انہو ںنے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے ملک کے مختلف ریاستوں میں مسلم نوجوانوں خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مختلف چھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ۔ چاہے وہ مکہ مسجد بم دھماکہ ہو یا مالیگاؤں اور دیگر واقعات ۔ انہیں جیلوں میں محروس رکھا گیا لیکن دنیا نے دیکھا ایک بڑی تعداد آج عدالت سے رہا ہوچکی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سازش مسلم سماج کو خود میں مبتلا کرنے کیلئے رچی گئی تھی ناکام ثابت ہوئی ۔ اعجاز احمد مرزا بھی اس طرح کی سازش کا شکار ملک کے باوقار ادارے DRDO میں بحیثیت جونئیر سائنسٹس اپنی خدمات انجام دے رہے تھے ۔ جنہیں جھوٹے مقدمے میں پھانسا گیا ۔ لیکن عدالت نے انہیں باعزت بری کردیا ۔ ان سے قبل مصیع الرحمن اور محمد یوسف بھی اسی مقدمہ میں بری ہوچکے ہے ں۔ ایس آئی او مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اعجاز احمد مرزا کو ان کی خدمات پر بحال کریں جس کا وعدہ مرکزی وزیر دفاع اے کے انتونی نے پارلیمنٹ میں تحریراً کیا تھا کہ اگر اعجاز احمد معصوم پائے گئے تو انہیں بحال کردیا جائے گا ۔ جھوٹے مقدمات میں ان نوجوانوں کو پھانسنے کی کوشش کی ہے اور ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔ جب تک ان عہدیداروں کے مختلف کارروائی نہیں کی جائے تب تک معصوم قید و بند کی صوبتیں جھیلے گئے اور مجرم آرام سے گھومتے پھریں گے ۔ اس موقع پر صدر مقامی ایس آئی او حفیظ خان ، سید سرفراز ، ارشاد الحق اور سید غوث محی الدین موجود تھے ۔