دستبرداری کے احکام موصول نہیں ہوئے ‘ افغانستان میں امریکی کمانڈر کا بیان

کابل 24 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان میں اعلی امریکی کمانڈر نے آج کہا ہے کہ انہیں اس ملک سے دستبرداری کے تعلق سے کوئی احکام موصول نہیں ہوئے ہیں۔ ناٹو نے بھی اس بات کی توثیق کی ہے جبکہ چند دن قبل میڈیا میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہاں سے 7,000 فوجیوںکو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جنرل اسکاٹ ملر نے یہ دعوی کیا کہ انہیںافغانستان سے امریکی فوجیوں کی دستبرداری کے تعلق سے کوئی احکام موصول نہیں ہوئے ہیں ۔ جنرل ملر کے اس بیان کے بعد گذشتہ چند دن سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ گذشتہ چند ایام کے دوران بیرونی سفارتکاروں اور افغان عہدیداروں کے مابین اس تعلق سے بے چینی کی فضاء پیدا ہوگئی تھی اور اب سمجھا جا رہا ہے کہ صورتحال معمول پر آ جائیگی ۔ ایک امریکی عہدیدار نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود 14,000 امریکی فوجیوں میں تقریبا نصف کو واپس بلالیا جائے ۔ تاہم وائیٹ ہاوز نے ابھی تک اس طرح کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے ۔ جنرل اسکاٹ ملر نے مشرقہ صوبہ ننگر ہار کے گورنر کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ انہیں اس طرح کے کوئی احکام موصول نہیں ہوئے ہیں۔ ایسی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ جنرل ملر افغانستان میں ناٹو افواج کے بھی کمانڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اس طرح کے احکام مل بھی جاتے ہیں تو افغانستان کو فکرمندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت بھی یہاں سکیوریٹی فورسیس موجود رہیں گی ۔ اگر ہماری تعداد میں کوئی کمی آتی بھی ہے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑیگا ۔