ریاض ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سعودی بارڈر گارڈس کو یہ سخت احکامات دیئے گئے ہیں کہ وہ دراندازی کرنے والے کسی بھی شخص کو دیکھتے ہی گولی ماردیں۔ قبل ازیں جاریہ ماہ کے اوائل میں عراق کی سرحد پر تین ٹروپرس کو مار گرایا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق احکامات کا اطلاق یمن اور عراق کے شمالی سرحد کی نگرانی کرنے والے گارڈس پر ہوگا۔ میجر جنرل احمد الغمزی نے یہ بات بتائی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ سینئر کمانڈر جنرل اودھا البلاوی ان تین بارڈر گارڈس میں شامل ہیں، جو سعودی میں دراندازی کرنے والے چار افراد کے ساتھ ہوئی ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے جن میں سے دو نے اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا لیا تھا۔ الغمزی نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد وہ کسی بھی نوعیت کی مذاکرات کرنا نہیں چاہتے۔ اب ہم بغیر کسی وارننگ، بغیر کسی بات چیت کے راست طور پر انہیں گولیوں سے بھون دیں گے حالانکہ سرحدی جھڑپ کیلئے کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن سعودی عرب ان عرب ممالک میں شامل ہے جو دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے خلاف امریکی قیادت والے فضائی حملوں میں شامل ہے اور اسے اس بات کا بھی اندیشہ ہیکہ فضائی حملوں کا ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔ الغمزی نے کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ دہشت گردوں کا تعلق دولت اسلامیہ سے ہے لیکن عرب خطہ میں داخل ہونے کیلئے وہ لوگ عراق کی سمت سے ہی آئے تھے جہاں انہیں روکنے کی کوشش کی گئی تھی کیونکہ انفراریڈ کیمروں میں ان کی حرمات و سکنات قید ہوگئی تھیں اور اس کے بعد دو دراندازوں کو گولی مار دی گئی تھی۔ سیکوریٹی عہدیداروں نے بعدازاں چاروں دراندازوں کے مشتبہ سات ساتھیوں کو گرفتار بھی کیا تھا۔ فی الحال الغمزی نے سیکوریٹی وجوہات کی بنیاد پر یہ بتانے سے انکار کردیا کہ سرحد پر کتنے افسران کی تعیناتی عمل میں آئی ہے۔ گذشتہ ستمبر میں مملکت سعودی عرب میں ایک محافظ فصیل (دیوار) کا افتتاح عمل میں آیا تھا جس کے ذریعہ 900 کیلو میٹر تک سرویلانس سسٹم کو متعارف کیا گیا جو انتہائی ہائی ٹیکنالوجی سے مربوط نظام ہے جو صحرائی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ دیکھتے ہی گولی مار دینے کے احکامات کا اطلاق یمن کے ساتھ جنوبی سرحد پر بھی ہوگا جہاں عرب جزیرہ نما میں القاعدہ نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کردیا ہے۔