داغدار قائدین کا تحفظ کرنے این سی پی کی بی جے پی کو تائید

ممبئی ۔ 21 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : شیوسینا نے آج این سی پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت کی باہر سے تائید کرنے کے عمل کو خود غرضی سے تعبیر کیا اور کہا کہ بی جے پی کی تائید صرف اس لیے کی جارہی ہے تاکہ این سی پی کے داغدار لیڈروں کا تحفظ کیا جاسکے ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار سامنا کے اداریہ میں تحریر کرتے ہوئے کہا کہ این سی پی کے لیے کل تک بی جے پی ایک فرقہ پرست جماعت تھی اور یہ کہہ کر پارٹی کا مضحکہ اڑایا جاتا تھا کہ پارٹی میں زیادہ تر آر ایس ایس کی آدھی نیکر والے لوگ موجود ہیں لہذا کیا اب این سی پی مہاراشٹرا میں استحکام پیدا کرسکتی ہے ؟ جواب صرف یہ ہے کہ پارٹی نے بی جے پی کی تائید کا فیصلہ صرف اس لیے کیا ہے تاکہ این سی پی میں موجود داغدار لیڈروں کا تحفظ کیا جاسکے ۔ شیوسینا نے این سی پی قائد پرافل پٹیل کو موقع پرست لیڈر سے تعبیر کیا اور کہا کہ ان کی ( پرافل ) پارٹی اپوزیشن کا موقف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے این سی پی کو ایک ’ فطری طور پر بدعنوان ‘ پارٹی کہتے کہتے کبھی تھکن کا مظاہرہ نہیں کیا جس نے مہاراشٹرا کو لوٹ لیا ہے ۔ بی جے پی لیڈر ونود تاوڑے نے تو یہ دھمکی بھی دی کہ وہ مہاراشٹرا میں کانگریس ۔ این سی پی کے اسکامس کا افشاء کریں گے اور بدعنوان لیڈروں کو جیل بھیجیں گے لہذا اب صورت حال یہ ہے کہ ایسی پارٹی جو بدعنوان ہے وہ اب موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی کی تائید کرنے تیار ہے ۔ اداریے میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ شیوسینا نے ہمیشہ سے ہی ایک متحدہ مہاراشٹرا کی تائید کی ہے ۔