یروشلم ۔7مارچ ( سیاست ڈاٹ کام )اسرائیل میں ان دنوں ’’عید پوریم‘‘ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہرسال اسرائیل سمیت پوری دنیا میں یہودی اس دن کو بڑے مذہبی جوش جذبے سے مناتے ہیں۔ لیکن عید پوریم مذہبی سے زیادہ سماجی نوعیت کا ایک تہوار ہے جس میں مزاحیہ خاکے اور ہنسی مزاح کے پروگرام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ہر شخص مزاحیہ قسم کا لباس زیب تن کرتا اور مسخرہ پن اختیار کرتے ہوئے دوسروں کے لیے ہنسی اور مزاح کا سامان مہیا کرتا ہے۔یہ تہوار صدیوں پرانے ایک ایرانی مسخرے کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کے بارے میں روایت ہے کہ وہ قدیم ایران میں رہنے والا ایک بادشاہ کا وزیر تھا جس نے یہودیوں کی نسل کشی کا فیصلہ کیا مگر خود بادشاہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔یہ تہوارایک ایسے وقت آیا ہے جب اسرائیل میں 17 مارچ کو وسط مدتی پارلیمانی انتخابات کا بگل بجنے کو ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے۔ اسرائیل کی ایک خاتون سیاست دان نے اپنی انتخابی مہم کو ’’عید پوریم‘‘ کی مناسبت سے مزاحیہ انداز میں چلانے کی ایک منفرد کوشش کی ہے۔ انات روتھ نامی اس خاتون سیاست دان نے مشرق وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے’’قصاب‘‘ یا ’’جہادی جان‘‘ کا طرز لباس اختیار کر کے ووٹروں کواپنی جانب مائل کرنے کا ڈھنگ اپنایا ہے۔ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں انتخابی مہم کے دوران اس طرح کا ’’مسخرہ پن‘‘ اختیار کرنے کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔