خلاء میں ملک کے پہلے انسانی مشن ’گگن یان‘ کو کابینہ کی منظوری

نئی دہلی 28دسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی کابینہ نے خلا میں ملک کے پہلے انسانی مشن‘گگن یان’ کی منظوری دے دی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کی جمعرات کی رات ہونے والی میٹنگ میں اس مہم کو منظوری دی گئی۔ اس کے تحت تین خلانوردوں کو زمین کے ذیلی مدار والے خلا میں بھیجا جائے گا۔ پوری مہم پر 10 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے ۔مرکزی قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ حقیقی انسانی مشن سے قبل دو بار انسان کے بغیر مشن کو بھیجا جائے گا جن میں لانچنگ وہیکل، ماڈیول اور دیگر تمام آلات سمیت مکمل عمل حقیقی مشن کی طرح ہی ہوگا۔خلانوردوں کو لے کر جانے والے ماڈیول اور دیگر تمام آلات کو خلا میں مطلوبہ مدار تک پہنچانے کے لئے جی ایس ایل وی ایم کے -3 لانچنگ وہیکل کا استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ خلا نوردوں کی تربیت، پرواز کے نظام کے فروغ اور زمین پر بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لئے ضروری انفرا اسٹرکچر تیارکئے جائیں گے ۔مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) قومی ایجنسیوں، لیبارٹریز، تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے ساتھ شراکت کرے گا۔وزیر اعظم مودی نے اس سال 15 اگست کو لال قلعہ سے اعلان کیا تھا کہ 2022 تک اسرو ملک کا پہلا انسانی مشن بھیجے گا۔ اسرو اس منصوبے پر سال 2004 سے ہی کام کر رہا ہے ۔فی الحال اس کا زمین کے ذیلی مدار میں ہی انسانی مشن بھیجنے کا منصوبہ ہے ۔ اس مہم کے دوران کئے گئے مستقبل میں طویل فاصلے کی مہمات کی صلاحیت کو تیار کرنے میں اسرو کے لئے مددگار ہوں گے ۔اب تینوں خلانوردوں کو زمین کا ایک چکر لگانے تک یا زیادہ سے زیادہ سات دن تک خلا میں رکھنے کا منصوبہ ہے ۔ ان کی زمین پر واپسی کے عمل اور اس کے لئے بنائے گئے ماڈیول کی جانچ جاری ہے ۔ پہلے دو بغیر پائلٹ مشن میں اس بات کو یقینی بنائی جائے گی کہ خلانوردوں کو بھیجنے سے لے کر ان کی واپسی تک مکمل مہم محفوظ اور کامیاب ہو۔اس مہم سے ایڈوانس ٹیکنالوجی کے لئے انسانی وسائل کی ترقی میں مدد ملے گی اور بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع بھی ہوگا۔