خشوگی کے قتل پر پردہ ڈالنے کیلئے ماہرین بھیجے گئے

قتل کے بعد سعودی عرب سے دو افراد کی آمد کے بارے ترک عہدیدار کا دعویٰ
استنبول 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے جرنلسٹ جمال خشوگی کے استنبول میں واقع اپنے قونصل خانہ میں قتل کے بعد ثبوت کو مٹانے کے خاص مقصد سے 2 ماہرین کو استنبول بھیجا، ایک ترک عہدیدار نے آج یہ بات کہی۔ سعودی شاہی خاندان کے معتبر شخص سے ناقد بن جانے والے خشوگی کی 2 اکٹوبر کو قونصل خانہ کے اندرون ہلاکت کے زائداز ایک ماہ بعد ترکی ہنوز اِس تنازعہ کے اثر سے خود کو بچانے میں سرگرم ہے جبکہ ایسے دعوے ہورہے ہیں کہ جرنلسٹ کی نعش کو ایسڈ میں تلف کردیا گیا۔ 59 سالہ خشوگی کی ہلاکت نے سعودی سلطنت کی امیج کو مغرب میں بُری طرح متاثر کیا ہے اور طاقتور ولیعہد محمد بن سلمان کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ترک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہاکہ ہمارا ماننا ہے کہ 2 افراد ترکی کو واحد مقصد سے آئے کہ جمال خشوگی کے قتل کا ثبوت مٹادیا جائے۔ قبل اس کے کہ ترک پولیس کو قونصل خانہ کی تلاشی انجام دینے کی اجازت دی جائے۔ ترک عہدیدار نے اخبار صبا میں شائع رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ کمیکلس کے ماہر احمد عبدالعزیز ال جنوبی اور ٹاکسیکالوجی کے ماہر خالد یحیٰی اُس ٹیم میں شامل تھے جسے سعودی عرب سے گزشتہ ماہ قتل کی تحقیقات کے لئے خصوصیت سے بھیجا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ 11 اکٹوبر سے 7 اکٹوبر تک اپنے قیام کے دوران ہر روز قونصل خانہ جاتے رہے۔ سعودی وفد نے ترک پولیس کو 15 اکٹوبر کو قونصل خانہ میں تلاشی کرنے کی اجازت دی۔ موافق حکومت ذرائع ابلاغ نے کئی ہفتوں سے جاری الزامات کے بعد ترکی کے چیف پراسکیوٹر نے گزشتہ ہفتے تصدیق کی کہ خشوگی کو گلا گھونٹ کر مارا گیا اور یہ کام اُن کے قونصل خانہ میں داخل ہوتے ہی کیا گیا اور پھر نعش کو مسخ کردیا گیا۔