حیدرآباد کے بدلے کشمیر پاکستان کو دینے کے لئے سردار پٹیل تیارتھے‘ کانگریس لیڈر سیف الدین سوز کا بیان

جواہر لال نہرو کو ’’ ہندوستان کا عظیم سپوت‘‘ قراردیتے ہوئے سوز نے کہاکہ سردار پٹیل نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بھروسہ کے ساتھ ’’لیاقت علی خان کو نیک نیتی سے کشمیر کی پیش کی ‘‘ تھی
نئی دہلی۔ کشمیر پر اپنی کتاب کی رسم اجرائی کے موقع پر پیر کے روز کانگریس لیڈر سیف الدین سوز نے کہاکہ سردار پٹیل چاہتے تھے کہ حیدرآباد کے بدلے کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے مگر جواہر لال نہرو اس علاقے کو ہندوستان کا حصہ قائم رکھنے کے لئے سنجیدہ تھے۔

کانگریس نے اپنے تمام لیڈروں سے کہادیا تھا کہ وہ اس تقریب سے دور رہیں مگر سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش نے اس تقریب میں شرکت کی ۔ سابق مرکزی وزیر چدمبرم کو اس کی کتاب کی رسم اجرائی انجام دینی تھی مگر و ہ پارٹی کے فیصلے کے ساتھ گئے اور تقریب میں شرکت نہیں کی۔

کانگریس لیڈرس نے اس سے قبل کتاب میں کئے گئے سوز کے دعوؤں کو مسترد کردیا تھا۔ تقریب میں سوز نے کہاکہ میری کتاب سے کانگریس کو کوئی لینا دینا نہیں ہے’’ یہ میری کتاب ہے اور اس کا میں ذمہ دار ہوں۔ پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چائے‘‘۔

نہرو او رپٹیل کو ’’ ہندوستان کے عظیم سپوت قراردیتے ہوئے‘‘ سوز نے کہاکہ سردار پٹیل نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بھروسہ کے ساتھ ’’لیاقت علی خان کو نیک نیتی سے کشمیر کی پیش کی ‘‘ تھی۔

انہوں نے کہاکہ پٹیل نے پارٹیشن کونسل میں خان سے کہا تھاکہ’’ حیدرآباد دکن کے متعلق بات نہ کریں۔ کیا یہ پاکستان سے سمندر کے راستے یا پھر سڑک کے راستے جڑاہوا ہے۔ تمہارا کیا دعوی ہے؟آپ نہیں رکھ سکتے‘‘۔

سابق صحافی کو سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پریس افیسر بھی رہے ہیں نے کہاکہ 1962کے ہند چین جنگ کے بعد شاستری نے کہاتھا کہ’’ اگر پاکستان ہماری مدد کے لئے آتا ‘ ان کے سپاہیوں اور ہمارے سپاہیوں کا خون بہتا‘ بعد میں اگر پاکستان کشمیر مانگتاتو نہ کرنا مشکل ہوتا‘‘۔

ممتاز صحافی او رسابق منسٹر ارون شوری نے کہا کہ ہر کوئی تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے کشمیر مسئلے کا حل تلاش کررہا ہے۔

شوری نے بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پاکستان ‘ چین اور بینکوں کے متعلق ان کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت ایک ’’ پروگرام تیار کرنے والے الیکشن کی تیاری سے سامنے آنے والی ہے اور ان کا ایک ہی حربہ ہے جو ہندو ؤں او رمسلمانوں میں نفاق پرمشتمل ہے‘‘۔

Leave a Comment