حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر

کوڑنگل ۔ 13 ۔ مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) الیکشن کمیشن کی جانب سے ادارہ جات مقامی زیڈ پی ٹی سی اور یم پی ٹی سی کے انتخابات کا شیڈول جاری ہوتے ہی بیشتر سیاسی قائدین ان باوقار نشستوں کییلئے آس لگائے بیٹھے ہیں ۔ حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے پانچ منڈلوں میں زیڈ پی ٹی سی کی نشستوں کو خواتین کیلئے مختص کئے جانے پر قائدین کی نظریں یم پی ٹی سی اور ایم پی پی کی نشستوں پر لگی ہوئی ہیں ۔ ایک ہی پارٹی سے وابستہ تین تین ، چارچار امیدوار یم پی ٹی سی کی نشستوں کیلئے مقابلہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ ان انتخابات کے ساتھ ہی عام انتخابات کے مدنظر رکن اسمبلی کیلئے مقابلہ کرنے والے امیدوار کو جتانے کی ذمہ داری بھی منتخبہ یم پی ٹی سی امیدوار پر عائد ہوتی ہے ۔

اس وجہ سے بھی یہ انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں ۔ موجودہ طور پر حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں کانگریس اور تلگودیشم میں اصل مقابلہ ہے ۔ ٹی آر ایس ، بی جے پی اور وائی ایس آر کانگریس کے سرکردہ قائدین بھی تمام نشستوں پر اپنے اپنے امیدوار کھڑا کرنے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرنے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔ سابق میں سوائے کوسگی کے دیگر تمام منڈلوں پر کانگریس کی جیت ہوئی تھی ۔ اس بار تلگودیشم ایم ایل اے کی موجودگی اور ایک ماہ بعد عام انتخابات کے انعقاد کی وجہ امیدواران اپنی اپنی زور آزمائی کیلئے انتہائی اہمیت دے رہے ہیں ۔ ایک ہی پارٹی سے وابستہ زیادہ قائدین یم پی پی کی نشست کیلئے توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ کوسگی میں کانگریس سے تاحال تین امیدواروں کا نام لیا جارہا ہے جبکہ تلگودیشم پارٹی سے دو امیدواراران ہیں ۔ مدور میں کانگریس پارٹی سے چھ امیدواران یم پی پی نشست کیلئے نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔ دولت آباد میں کانگریس سے چھ امیدواران اور تلگودیشم سے تین امیدواران آس لگائے ہوئے ہیں ۔ کوڑنگل منڈل میں کانگریس سے تین ، تلگودیشم سے چار امیدوار مقابلہ میں ہیں ۔ ممبرس پیٹ میں جنرل کو مختص کرنے کی وجہ کوتور ، لگچرلہ یم پی ٹی سی نشستیں ہی جنرل کیلئے مختص کی گئی ہیں ۔

جس کی وجہ وہاں پر مقابلہ آرائی کیلئے چند لوگ زور آزمائی کررہے ہیں ۔ یہاں سے کانگریس سے تین ، تلگودیشم سے تین امیدوار مقابلہ میں ہیں ۔ حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں ممبرس پیٹ منڈل جنرل اور مابقی منڈلوں کوڑنگل ، کوسگی ، مدور اور دولت آباد بی سی جنرل کیلئے مختص ہونے کی وجہ جنرل نشستوں کے ساتھ ساتھ مختص نشستوں پر بی سی طبقہ کے امیدوار مقابلہ کرتے ہوئے یم پی پی نشست پر قبضہ جمانے کیلئے زیادہ لوگ کوشاں ہیں ۔ سرکاری مشنری کو چوکس کردیا گیا ہے ۔ منصفانہ چناؤ کیلئے الیکشن آفیسرز ضروری اقدامات میں مصروف ہیں ۔