حضرت امام اعظم ؒ کی زندگی کا ہر گوشہ قابل تقلید

کاماریڈی میں جلسہ سے مولانا محمد معصوم نقشبندی کا خطاب
کاماریڈی:23؍ مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)21؍ مئی بروز جمعرات مدینہ مسجد کاماریڈی میں بعد نماز ظہر جلسہ یوم امام اعظم ؒمنعقد ہوا۔ اس جلسہ کو مولانا محمد معصوم نقشبندی کامل الفقہ جامعہ نظامیہ نے مخاطب کیا۔ انہوں نے سیرت و شان امام اعظم ؒپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معروف قول کے مطابق حضرت امام اعظمؓ کی ولادت ۸۰ ؁میں ہوا۔ امام اعظم ابو حنیفہ ؓ کا پورا اسم گرامی نعمان بن ثابت بن زوطی ہے۔ ابو حنیفہ آپؒ کی کنیت ہے چونکہ کہ آپؒ نے اللہ کی توفیق وعنایت سے حق کو باطل سے جدا کرکے بیان کیا۔ اجتہادات کے ذریعہ دین کی صحیح اور درست تعبیر امت کے سامنے رکھی اس لئے آپ کو ابو حنیفہ کہا جاتا ہے۔ امام اعظم کے دادا جان اپنے بچہ ثابت کولے کر مولائے کائنات حضرت علی کی بارگاہ میں آئے ۔ جب آپ کے دادا جان حضرت نعمان زوطی اپنے بیٹے ثابت کو جو دو تین سال کے بچے تھے مولاعلی کی بارگاہ میں دعا کیلئے پیش کیا تو آپ نے یہ دعا کی فرمایا اے اللہ اس ثابت کو بھی برکت دے اور آگے اس کی اولاد کو بھی برکت عطا فرما۔ حضرت امام اعظم کے پوتے اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ روایت کرتے ہیں مولاعلی کی دعا کا اثر تھا کہ میرے دادا نعمان بن ثابت امام اعظم ہوگئے اور ان کی فقہ رائج ہوگئی اور ان کے علم میں اللہ نے برکت دی۔ مولانا نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ امام اعظم کی حیات مبارک کا ہر گوشہ قابل تقلید اور اپنی مثال آپ ہے۔ آپ کے عبادت، زہد ورع، جودو سخا، علم و صلم، تقوی، شب بیداری، عمر مبارک میں سات ہزار مرتبہ ختم قرآن کرنا ، 45 سال تک ایک وضو سے سے پانچوں نماز یں پڑھنا، چالیس سال تک عشاء کے وضو سے نماز فجر کی ادائیگی۔ رات کے دو نفلوں میں پورا قرآن مجید ختم کرنا۔ ان کو علم اور رات کو عبادت میں بسر کرردینا ۔ ان کی حیات مبارک کہ لا تعداد گوشے ہیں۔ حدیث اور ائمتہ فقہ جب آپ کا ذکر کرتے تو وہ اس طرح کرتے کہ ’’یہ ہے وہ امام جو ایک طرف علم کا سمندر ہے اور دوسری طرف زہد ، تقویٰ اور عبادت کا پہاڑ ہے ‘‘فرماتے یہ دو چیزیں بہت کم یکجا ہوتیں۔ ایک دن امام اعظم ایک بازار سے گذر رہے تھے کہ ناخن بھر کیچڑ اُڑ کر آپ کے لباس پر آپڑا ۔ آپ اسی وقت ایک کنارے گئے اس مٹی کو خوب مل مل کر دھویا ۔ لوگوں نے کہا حضرت آپ اس کے برابر نجاست کو کپڑے پر جائز بتاتے ہیں اور خود اس قدر مٹی کو دھورہے ہیں آپ نے فرمایا تم سچ کہتے ہو۔ مگر وہ فتویٰ ہے اور یہ تقویٰ ہے ۔ مولانا نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے امام تقویٰ و پرہیز گاری کے پیکر تھے ۔ ایک بار امام اعظم کا بے خبری میں ایک لڑکے کے پائوں پر پائوں پڑگیا ۔ لڑکے نے کہا کہ اے شیخ کیا آپ قیامت کے دن بدلہ سے نہیں ڈرتے حضرت امام اعظم نے سنا تو آپ پر غشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہو ا تو آپ نے فرمایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ یہ کلمہ اسے تلقین ہوا ہے۔ اس جلسہ کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا ۔اس کی صدارت جناب محمد خواجہ علی قادری مدینہ مسجد نے کی۔ حافظ وقاری محمد عبدالرحیم نائب امام مدینہ مسجد نے نعت سنانے کی سعادت حاصل کی ۔ محمد ضیاء الرحمن ، محمد آصف ، محمد غیاث پاشاہ ، سید منظور احمد صابری ، محمد اشفاق قادری ، سید انور احمد قادری ، ہاشمی ، محمد معید حسین ہاشمی ، محمد ابراہیم ، محمد نظام الدین ، محمد نعیم الدین ، محمد افضل اسرایٰ ہوٹل ، محمد عبدالوحید ، محمد علی ، عبدالکریم شریک جلسہ تھے۔