قاہرہ ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مصر کے معزول صدر حسنیٰ مبارک کی باقی سزائے قید کے فیصلہ کو ایک مصری عدالت نے برعکس کرتے ہوئے ان پر جعلسازی مقدمہ دوبارہ چلانے کا حکم دیا۔ اس طرح ان کی جیل سے ڈرامائی رہائی کا فیصلہ برعکس ہوگیا۔ 86 سالہ حسنیٰ مبارک کو گذشتہ سال مئی میں 3 سال کی سزائے قید سنائی گئی تھی جبکہ وہ دھوکہ دہی کے ذریعہ ایک سرکاری عمارت کی عمارت میں ایک کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر کو اپنے ذاتی صرفہ کیلئے دھوکہ دہی کے ذریعہ استعمال کے مجرم قرار دیئے گئے تھے۔ یہ حسنیٰ مبارک کے خلاف آخری مقدمہ ہیں۔ قبل ازیں ان کے 30 سالہ دوراقتدار میں کی ہوئی بدعنوانیوں کے مقدمے گذشتہ سال نومبر میں واپس لے لئے گئے تھے۔ حسنیٰ مبارک کے حامیوں نے خوشی کے نعرے بلند کرتے ہوئے انصاف زندہ کے نعروں سے اس عدالتی فیصلہ کا خیرمقدم کیا تھا۔ ان کے مشیرقانونی فریدالدیب نے کہا کہ انہیں امید ہیکہ ان کے موکل کو قاہرہ کے فوجی ہاسپٹل سے ہی جہاں وہ حراست میں زیراہتمام ہیں، رہا کردیا جائے گا۔ عدالت مرافعہ نے یہ واضااحات نہیں کہ کیا مذکورہ فیصلہ کے بعد سابق صدر مصر کے آزاد شہری ہوں گے۔ حقیقی مقدمہ میں استغاثہ نے الزام عائد کیا تھا کہ حسنیٰ مبارک اور ان کے فرزندوں نے سرکاری خزانہ سے 12 کروڑ 60 لاکھ مصری پاونڈ اپنے ذاتی خرچ کیلئے استعمال کئے تھے اور اس کے لئے مختلف بلس داخل کئے تھے۔ جس طرح دھوکہ دہی کی تھی۔ دیگر اخراجات میں ان کے بنگلے کی تزئین و آرائش کیلئے استعمال کی ہوئی رقم شامل ہے جو گواہیاں اور ثبوت استغاثہ نے پیش کئے تھے ان کی تعداد ایک ہزار حقیقی اور جعلی رسیتوں پر مشتمل تھی۔