حج کی ادائیگی سنت کے مطابق کرنے کی تلقین

رائچور۔/22اگسٹ، (ای میل ) 16اگسٹ کو شمیم فنکشن ہال میں الہدیٰ ایجوکیشن ٹرسٹ رائچور رجسٹرڈ کے زیر اہتمام جناب وحید واجد ایم اے کی صدارت میں منعقدہ حج کیمپ کے تقریباً دیڑھ سو شریک عازمین حج کی خدمت میں نوٹ بک و قلم تقسیم کئے گئے۔ کیمپ ہذا کا آغاز مولانا نذیر عمری کی قرأت قرآن اور اختر کی نعت خوانی سے ہوا۔ مولانا صفی احمد عمری مدنی نے مناسک حج کی ادائیگی کو بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سنت کے مطابق ادا کرنا چاہیئے۔ خوشنودی رب کیلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اعمال زندگی کو متعلقہ مقدس مقامات حج ہوبہو صبر واستقلال، قربانی اور شکر و قناعت کے جذبات و خیالات کے ساتھ دہرانا حج ہے۔ طواف کعبہ، صفا و مروا، جمرات، ملتزم، مقام ابراہیم، حطیم، بوسہ اسود، آب زم زم، عرفات و مزدلفہ، قربانی، بال تراشنا، تلبیہ کا ورد یہ سب حج کا اہم حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں۔ عازم حج ایام حج میں صرف اور صرف ارکان حج کی ادائیگی میں خشوع وخضوع کے ساتھ منہمک رہیں۔ سوائے حج کے دنیا اور کوئی دنیاوی بات دل و دماغ میں نہ لائیں۔ مولانا صفی نے تاکید کی کہ زمانہ حج میں ناشائستگی ، بدکلامی، بے غیرتی، غیبت، غصہ، جھوٹ، بے ہودگی، ہنسی مذاق جیسے مخرب اخلاق باتوں سے گریز کریں بلکہ تکمیل حج کے بعد بھی شریعت پر کاربند رہتے ہوئے حقوق العباد کی ادائیگی میں مصروف رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عازمین حج باہمی ارتباط و جذبہ اخوت کے ساتھ رہیں۔ جناب طارق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایقان و ایمان ہی حج کو شرف قبولیت بخشتار ہے اور ایسے ہی عازم حج کو حج مبرور نصیب ہوگا۔ مولانا نے عورت، مرد عازمین حج کیلئے دوران ادائیگی، مناسک حج، ممنوعات کی تفصیل پیش کی۔ انہوں نے حج سے سرفراز ہونے کے بعد مسجد نبویؐ، مسجد قباء ، جنت البقیع کا شرف زیارت حاصل کرنے کا مشورہ دیا اور احرام باندھنے کا طریقہ بتایا۔ تناول طعام ظہرانہ کے بعد دوسرے سیشن میں حج پر مشتمل دستاویزی سی ڈی دکھائی گئی۔ آخر میں الہدیٰ ٹرسٹ کی جانب سے عازمین حج کی خدمت میں حج کے تعلق سے رہنما تحائف تقسیم کئے گئے۔ مولانا لطیف ، مولانا محبوب عمری نے بھی تقریر کی۔ ناظم کیمپ ہذا مولانا رفیع کلوری مدنی نے اظہار تشکر کیا۔ مسرز محمد سراج صدر ٹرسٹ، عبدالباری، ساجد، اعجاز، نعیم چودھری، ایوب خان اور بابو لال سرگرم رہے۔