چینائی۔/12مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) تاملناڈو میں اپوزیشن پارٹیوں بشمول ڈی ایم کے نے آج حکومت کرناٹک سے اپیل کی ہے کہ عدالت میں انا ڈی ایم کے سربراہ جیہ للیتا کو بری کرنے کے فیصلہ کے خلاف عرضی داخل کرے۔ ڈی ایم کے صدر کروناندھی نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ حکومت کرناٹک کے اسپیشل پبلک پراسیکوٹر بی وی اچاریہ نے فیصلہ کی تفصیلات واقف کروایا ہے اور سپریم کورٹ میںاپیل داخل کرنے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ فیصلہ کے بعض حصوں کی توضیحات صرف سپریم کورٹ سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں جس پر کئی سوال پیدا ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اور ڈی ایم کے سربراہ وجئے کانت نے کہا کہ یہ فیصلہ ( منسوبہ الزامات سے بری ) غیر منصفانہ تھا جبکہ صدر تاملناڈو کانگریس کمیٹی ای وی کے ایس ریلانگوان نے بھی حکومت کرناٹک سے اپیل داخل کرنے کی گذارش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرائیل اور ہائی کورٹ فیصلہ کے درمیان زبردست تفاوت پایا جاتا ہے
اور یہ توقع ظاہر کی کہ عدالت العالیہ ان وجوہات کا جائزہ لے گی جس کی بنیاد پر کرناٹک ہائی کورٹ نے جیہ للیتا کو بری کردیا۔ پی ایم کے سربراہ ایس رام داس نے ہائی کورٹ کی رولنگ کو چیلنج کرنے پر زور دیا اور کرناٹک کو سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیہ للیتا کو بری کرنے کا فیصلہ پر حکم التوا جاری کرنا چاہیئے۔ دریں اثناء بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے آج اشارہ دیا ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے غیر محسوب اثاثہ جات کیس میں انا ڈی ایم کے لیڈر جیہ لیتا کو بری کئے جانے کے خلاف وہ سپریم کورٹ اپیل دائر کریں گے اور بتایا کہ سپریم کورٹ میں یہ ثابت کریں گے کہ کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ غلطیوں کا پلندہ ہے، جس کے سبب جیہ للیتا کو پھر ایک بار چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفی دینا پڑے گا۔سبرامنیم سوامی اس کیس کے اصل فریق ہیں جنہوں نے 1996 میں جیہ للیتا کے خلاف غیر محسوب اثاثہ جات کا کیس دائر کیا تھا۔