جھارکھنڈ ہجومی تشدد واقعہ۔ گاؤں والے مویشی چور کہہ رہے ہیں جبکہ گھر والوں کو کہنا ہے کہ وہ متاثرہ ٹریڈرس ہیں۔

جھارکھنڈ۔ بنکٹی گاؤں کے دیہاتیوں نے 25سالہ مرتضی انصاری اور 42 سالہ چراغ الدین عرف چرکو انصاری کومبینہ طور پر مویشی چوری کرنے کے الزام میں اس قدر پیٹا کے ان کی موت واقع ہوگئی۔

گاؤں والے مویشیوں کی مسلسل چوری سے برہم تھے اور پردھان کے ایک رشتہ کے چوری ہوئی مویشیوں کی شناخت کا ایک موقع مل گیا تاکہ مبینہ چوروں کو اس ناقابل یقین الزام کا ذمہ دار ٹہرایا جاسکے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا میں دیو بند پولیس اسٹیشن کے حدود میں چہارشنبہ کے روز ہجوم نے دولوگوں کو بے رحمی کے ساتھ اس قدر پیٹا کے ا ن موت واقع ہوگئی۔

مرتضی انصار اور چراغ الدین عرف چرکوانصاری کو گاؤں والوں نے بھینسوں کی مبینہ چوری کے الزام میں پکڑکر اس قدرپیٹا کے بنکٹی گاؤں میں ان کی موت ہی ہوگئی۔وہیں مرضی کے گھر والوں نے دعوی کیا کہ وہ اس کا خاتمہ چرکوکے ساتھ کس طرح ہوا ‘بعد ازاں انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ ’’ وہ محض کاروبار ‘‘ پر تھے اور انہیں جھوٹے الزام میں ماردیاگیا

۔دھلو گاؤں کے پردھان سونا لال مارمو کے پڑوسی اسی گاؤ ں کے ساکن کسکو مستری نے کہاکہ’’ سونا لال اپنی بھینسوں کو لے کر صبح چرانے کے لئے گیاتھا۔ وہ وہاں پر سوگیا۔ جب وہ جاگا تو اس نے دیکھا کہ بھینس غائب ہیں۔

اس کے رشتہ دار کالیشوار سورین جو بکٹی گاؤ ں کا رہنے والا ہے اس نے سونولال کو فو ن کیا اور بتایا کہ گاؤں کے لوگوں نے دولوگوں کو تیرہ بھینسوں کے ساتھ پکڑا ہے اور وہ جانتاہے کہ یہ بھینسہ اس کی( سونولال) کی ہیں۔ پھر وہ گاؤں گیاجو چار کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اسی دوران افواہیں پھیلی او رگاؤں والے جمع ہوگئے‘‘۔سونا لال کا بھائی منشی مارمو کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ سونا لال نے کہاجب وہ اپنے گھرگوڈا گیاتھا تب اس کا گھر مقفل تھا ‘ مبینہ طور پر بھینسیں مل گئی تھی اور اندر بندھی ہوئی تھیں۔بنکٹی گاؤں کی ایک خاتون سانتھالی بستی نے کہاکہ ہجوم نے دولوگوں کو پکڑا اور ڈھولو گاؤں کی طرف لے گئے۔ میری ٹوڈو نے کہاکہ ہم نے دیکھا کہ تین لوگوں بھینسوں کو لے جارہے تھے ۔ہم نے ان سے سوال کیا۔

کالیشوار آیا اور اس نے بھینسوں کی شناخت کی ‘‘۔سونو لال کو ڈھولو سے فون آیا۔ درایں اثناء بدھیکارا ‘ دیوبند‘ اور پیندرہ پنچایت کے لوگ افواہوں کی وجہہ سے اکٹھا ہوگئے۔ تیسرا شخص بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔

جب ہم نے دیگر دو کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تو ‘ ان میں سے ایک نے پستول نکال کر ہمیں دھمکایا۔ہمیں غصہ آیا اور چار پانچ لوگوں نے مل کر ان کا تعقب کیااور انہیں پکڑ لیا۔ہم نے دونوں کو سونولال او ردیگر کے حوالے کردیا۔ جس کے بعد دونوں کو وہ لوگ ڈھول واپس لے گئے۔اس کے بعد کیاہوا ہمیں معلوم نہیں‘‘۔ کالیشوار کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

بنجھی میں مرتضی کے والد حلیم انصاری نے کہاکہ وہ سکتہ ہیں’’ میرے بیٹا پولٹری اور بکریوں کی خرید وفروخت کا کاروبار کرتاتھا۔ چہارشنبہ کے روز مرتضی یہ کہہ کر گیا تھا وکہ وہ ’’ کچھ مال( بکریاں‘‘ فروخت کرنے رام گڑہ مارکٹ جارہا ہے۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کونسے گاؤں کو جارہاہے۔

تقریبا8:30کے قریب ہمیں خبرملی کہ گاؤں والو ں نے اسکے ساتھ مارپیٹ کی ہے ۔ ہم نے پولیس کو فون کیا۔ اسی دوران جب تک پولیس وہاں پہنچتی ‘ ہجوم نے اس کو ماردیاتھا‘‘۔ حلیم ایک بیل بنڈی چلاتے تھے مگر اب وہ گھر ہی آرام کررہے ہیں۔

ان کا بڑا بیٹا ڈومکا میں مزدوری کرتا ہے۔ مرتضی اور چرکو کی پہچان کے متعلق پوچھنے ہر والد نے کہاکہ ’’ میں نے کبھی بھی اس شخص کو نہیں دیکھا۔ میرے بیٹے نے کبھی بھی اس کا ذکر نہیں کیا‘‘ ۔ چیرکو کے گھر والو ں کو بھی یہی کہنا ہے کہ وہ مرتضی کو نہیں جانتے ۔

چرکو کے بھائی محمداسلام جومیرٹھ میں مستری کاکام کرتا ہے نے کہاکہ ’’ میں سمجھتا ہوں وہ اس کا کاروباری ساتھی تھا۔ اس کے متعلق کبھی بھی ہمیں چرکو نے نہیں بتایا۔ ہم صرف اتنا جانتے تھے کہ وہ میویشوں کا کاروبار کرتا ہے‘‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چرکو پر مویشی چوری کرنے کے دو چارچ شیٹ2009اور2010میں درج ہیں۔

ایک پولیس افیسر نے کہاکہ ’’ دونوں واقعات میں اس کو رنگے ہاتھوں پکڑا کیاگیا تھا۔ دیوبند پولیس اسٹیشن علاقے مجرموں کی فہرست میں ا س کانام شامل ہے‘‘۔

اسلام کادعوی ہے کہ نوبچوں کے باپ چرکو کے خلاف درج مقدمہ اب بند ہوگیا ہے۔ حالیہ دنوں میں جھارکھنڈ کے اندر پیش ائے ہجومی تشدد کے حوالے دیتے ہوئے چرکوکو آگاہ کرنے کے متعلق پوچھنے پر اسلا م نے کہاکہ’’ ہم کیوں ایسے کریں گے؟وہ صرف تجارت میں تھے۔ جس طرح گاؤں کے دیگر لوگ تجارت کرتے ہیں‘‘۔سنتھال پرگانا کے ان گاؤ ں میں بکریاں پلانا ‘ بیل ‘ گائے مرغی کا تجارت ایک عام پیشہ ہے۔

تاہم گاؤں والوں نے مویشیوں کی گمشدگی کو خطرناک انداز میں پیش کیاہے۔ڈھولو گاؤں کے کیٹکا ساہ نے کہاکہ ’’ پانی کی کمی کے سبب زراعت ممکن نہیں ہے۔ مویشوں کی افزائش جیسے دودھ کے لئے گھریلو استعمال ہوگیا ہے اور اگر زیادہ ہوگئے تو ہم انہیں مارکٹ میں فروخت کردیتے ہیں۔

فی بھینس پچیس سے پچاس ہزار میں فروخت ہوتی ہے۔ بکریاں دس ہزار میں۔ ہم انہیں کمیاب بنانے میں کڑی محنت کرتے ہیں۔ مگر چور انہیں لے جاتے ہیں۔ گاؤں والی کی برہمی کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا‘‘۔بنکٹی کے ایک رہائشی ہلدار منڈل نے کہاکہ ’’ ان ( چوروں) کے لئے یہ آسان ہے۔

وہ رات میں چوری کرتے ہیں اور پکڑے جانے کی صورت میںآتش بازی کردیتے ہیں۔ ان کے پاس سرمایہ کاری کاکچھ نہیں ہوتا سب سے منافع ہی رہتا ہے‘‘۔ پولیس افیسر وں کا کہنا ہے کہ دودھ دینے والے جانوروں کی مارکٹ میں اچھی قیمت ملتی ہے۔

وہیں دودھ نہیں دینے والے جانوروں کو فارم کے لئے اب بھی فروخت کیاجارہا ہے۔سرکل انسپکٹر پوریاہٹ انل کمار چودھری نے کہاکہ ’’ کسی بھی بھی صورت میں انہیں خریدار مل جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ چوری کی شکایت میں لکھاتے۔ اس کا فائدہ چوروں کوہوتا ہے۔

مگر بعض اوقات وہ پکڑبھی جاتے ہیں۔ ایسے واقعات میں گاؤں والے قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے‘‘۔مبینہ طور پر چرکو کے ہتھیار کے استعمال کے متعلق پوچھنے پر چودھری نے کہاکہ’’ اس کا ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے‘‘ ۔ چارلوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے اور مزیدتحقیقات جاری ہے

Leave a Comment