جگتیال میں انجام دیئے گئے ترقیاتی کام کانگریس اور تلگودیشم کا کارنامہ

سابق رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی کا پریس کانفرنس سے خطاب

جگتیال25؍اکٹوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جگتیال میں سابقہ رکن اسمبلی ٹی جیون ریڈی نے آج صبح اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں کی پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز کے ٹی آر کی جانب سے جیون ریڈی اور کانگریس پارٹی پر چالیس سال سے کیا ترقیاتی کام انجام دینے کے سوال پر انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار با ر کے ٹی آر جگتیال میں ترقیاتی کام نہ کرنے اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ کا الزام لگارہے ہیں حقیقت میں ٹی آر ایس کے دور اقتدار میں کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دئے گئے ، اس لئے ہمارے تعلق سے بات کرنے کا الزام لگایا۔ کے ٹی آر خود جگتیال کی ترقی میں رکاوٹ ۔انہوں نے کہا کہ یاور روڈجگتیال سے پداپلی تک 100کروڈ کی لاگت سے روڑ کی تعمیر ،راجیو راہدار ی کریم نگر تا حیدرآباد۔کے علاوہ کریم نگر ،سرسلہ،جگتیال بائی پاس روڈوں کی تعمیر حلقہ جگتیال میں جے این ٹی یو کالج کا قیام ،اگریکلچر یونیورسیٹی کا قیام، پولاس اگریکلچر کالج کا قیام ، نیاک سنٹر کاقیام،اور جگتیال کے بے گھر عوام کیلئے نوکا پلی اربن ہاوزنگ کالونی میں 400ہزار مکانات کی تعمیر اور کورٹلہ میں ویٹرنری کالج کا قیام ،اور جگتیال میں نرسنگ کالج کا قیام ، میری اور ایل رمنا کی قیادت میں انجام دئے گئے ، ٹی آر ایس کے چار سالہ اقتدار میں کوئی ایک تعلیمی یا طبی یونٹس کا قیام عمل میں لا یا گیا کیا؟جبکہ جگتیال سرکاری دواخانہ کو منظور کردہ آئی سی سی یو یونٹ کو کے ٹی آر نے سرسلہ دواخانہ کو منتقل کرنے کا الزام لگایا، کاش یہ یونٹ جگتیال دواخانہ میں ہوتا تو کونڈا گٹو حادثہ میں ہلاک 64افراد میں 10افراد کی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔ اوورہیڈ ٹینگ کی تعمیر ،پینے نے کے پانی کی سہولت نہ ہونے والا کوئی گاؤںنہیں ہے،انہوں نے کی ٹی آر کی جانب سے بار بارجگتیال بلدیہ کو 25کروڈ فنڈاورضلع کا درجہ دینے کی بات پر کہا کہ کیا جگتیال تلنگانہ کا حصہ نہیں ہے،جبکہ جگتیال بلدیہ فرسٹ گریڈ میونسپل ہے جس کو 25کروڑ دئے گئے جبکہ کورٹلہ سکنڈ گریڈ اور مٹ پلی تھرڈ گریڈ میونسپل ہے اور کورٹلہ حلقہ میں دو میونسپل کو ملاکر 50کروڈ دئے گئے جبکہ جگتیال کو 25کروڈ دیکر بڑی بڑی باتیں کی جارہی ہے،اور ضلع کے درجہ پر انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کا قیام جب کبھی بھی ہوتا تو سب سے پہلے جگتیال اور منچریال ہوتا ،اس میں انکا کوئی رول نہیںجبکہ تمہاری مہربانی پر سرسلہ اور پداپلی کو ضلع بنایا گیا۔2004اور 2005میں کانگریس حکومت نے ہر بلدیہ جات کو 25کروڈ منظور کئے تھے۔اور کانگریس حکومت نے جگتیال میں 200روپئے میں ہر گھر کو نل کنکشن پائیپ لائین کے ساتھ پائیلٹ پراجکٹ کے تحت دیا گیااور تلنگانہ ریاست میں جگتیال بلدیہ واحد ہے جہاں پر عوام کو ہر روز پینے کے پانی کی سربراہی کی جاتی ہے،جبکہ ٹی آر ایس نے مشین بھگیراتا سے عوام کو گھر گھر خالص پانی فراہم نہ کرنے ووٹ نہ مانگنے کی بات کہی تھی،کسی مکان کو پانی سپلائی کئے کیا سوال کیا،کس منہ سے عوام سے ووٹ مانگو گے؟انہوں نے کے ٹی آر کو اقتدار میں آنے کے خواب کو دیکھنا چھوڑ دینے کی بات کہی،تمہیں یہاں کے ترقیاتی کاموں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ ہمارا حلقہ ہے اور یہاں پر ہم ہی ترقی انجام دینگے، ہم میں خود اعتمادی ہے،جگتیال کو ترقی کی سمت میں گامزن کرنے والے جیون ریڈی ہوتو ان کے ساتھ ساتھ ایل رمنا بھی شامل ہے،ہم دونوں نے جگتیال کی ترقی کیلئے ہمیشہ اقدامات کئے ہیں اور کرتے رہنگے ۔انہوں نے کہا کہ سابق میں میں نے چار ہزار کروڈ میں ریاست بھر میں پیوریفائیڈ پانی کی سربراہی کی بات پر قائم ہوں تم گھر گھر پانی نہ دینے پر ووٹ نہ پوچھنے کی بات پر اقائم ہے کیا 40ہزار کروڈ کی لاگت سے پانی سربراہی کیلئے مشن بھگیراتا کے نام پر کمیشن حاصل کرنے کا الزام لگایا۔جمہوریت کی بحالی کے مقصد سے ہی عظیم اتحاد کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کے ٹی آر کی جانب سے دوبارہ کامیابی پر جگتیال میں سڑک کی توسیع کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تمہاری ضرورت نہیں ہے،تم دوبارہ اقتدار میں نہیں آئنگے، اور تمہیں یہ تکلیف کی ضرورت نہیں،ہم خود جگتیال کی ترقی کوانجام دینگے،اس موقع پر ایلہ ریڈی سابقہ زیڈ پی ٹی سی ،بلدیہ چیر پرسن ٹی وجیہ لکشمی ،سابقہ بلدیہ چیرمین گری ناگابھوشنم ،ایم پی پی مہیش،کتہ موہن ،مکثر علی نہال،ریاض ،اور دیگر موجود تھے۔