جموں کشمیر بی جے پی میں عورتوں کے ساتھ بدسلوکی‘ ریاستی صدر سے خاتون لیڈر کی شکایت

مذکورہ بی جے پی لیڈر نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ پارٹی میں عورتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ’’ وہ ( پارٹی کے مرد لیڈران) نہیں جانتے کہ عورتوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤکیاجائے‘‘
جموں۔جموں او رکشمیر بی جے پی کی ایک خاتون مبینہ طور پر پارٹی کے مرد لیڈران کا بدسلوکی کا الزام عائد کیا ہے اور کہاکہ تنظیم کے اندر ان کااستحصال کیاگیا ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کی شام کو اس وقت پیش آیا جب جموں کے کنونشن سنٹر میں سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کیاجارہا تھا‘ بی جے پی کے رکن پریا جارال ریاستی صدر رویندر ررائنا سے رجوع ہوئی ان پر زوردیا کہ وہ ’’ماتور شکتی‘‘کو تحافظ فراہم کریں۔

ریاستی اسمبلی اسپیکر نرمل سنگھ بھی بازومیں کھڑے تھے‘ انہو ں نے جارال کو برسرعام الزام عائد کرنے سے روکنے کی کوشش کی مگر وہ ایک نا سنی اور رائنا سے بات کرتی رہیں۔ رائنا سے بات کرتے ہوئے جارال نے یہ کہاکہ وہ( رائنا) انہیں کہتے ہیں کہ وہ ’’ ماتورشکتی‘‘ اور ’’ جھانسی کی رانی ‘‘ ہے۔

شرمندگی محسوس کرتے ہوئے رائنا نے انہیں خاموش بیٹھانے کی کوشش کی اور کہاکہ ’’ اچھانہیں لگتا‘اچھا نہیں لگتا ‘‘ اس مسلئے پر بعد میں بات کریں گے۔ جس پرجارال نے جواب دیا ’’ نہیں سر میں تھک گئی ہوں بول بول کر‘‘۔

جیسے ہی رائنا اڈیویٹوریم کے باہر دوسرے لیڈرس کے ساتھ جانے لگے‘ جارال نے ان کاتعقب کیا ‘ او ریہ کہا کہ واجپائی عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف بولتے تھے اور خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے تھے۔

انہو ں نے مبینہ طور پر کہاکہ پارٹی میں عورتوں کی کوئی عزت نہیں ہے’’ وہ ( پارٹی کے مرد لیڈران) نہیں جانتے کہ خواتین کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہئے‘‘۔انہوں نے کہاکہ’’ میں خاموش بیٹھنے والی عورتوں میں نہیں ہوں۔ میں اپنی آواز بلند کروں گی‘‘ ۔

جب ان سے کہاکہ وہ سنگین الزامات لگا رہی ہیں‘ تو جارال نے کہاکہ’’ ایسا ہورہا ہے‘‘

جارال نے ایک سینئر پارٹی لیڈر پر الزام عائد کیاکہ اگر پارٹی میں ترقی چاہتی ہو تو انہیں پارٹی کے سینئر سطح پر کچھ ’’ معاملے داری‘‘کرنا پڑیگا‘ جسکو انہیں مسترد کردیا اور پارٹی لیڈر سے چھین لیا۔جمعہ کے روز باربار فون کال کرنے کے بعد بھی رویندر رائنا سے ہماری بات نہیں ہوسکی۔

مہیلا کانگریس ورکرس نے جمعہ کے روز معاملے کی اعلی سطی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا منظم کیا۔

Leave a Comment