جشن تلنگانہ میںاُردو زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک

نظام آباد۔10 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)تلنگانہ کے قیام کے موقع پر سرکاری طورپر منعقدہ یوم تاسیس تلنگانہ کے پروگرام میں اُردو پروگرامس کے نظر انداز اور اُردو زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک کئے جانے پر ضلع کے اُردو داں طبقہ کی جانب سے شدید ناراضگی ظاہر کی جارہی ہے انتخابات سے قبل ٹی آرایس نے اقتدار پر آنے کے بعد اُردو کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا واضح طورپر تیقن دیا تھا اور اُردو زبان کے فروغ کیلئے اقدامات کرنے کا بلند و بانگ دعویٰ کیا تھالیکن دیگر حکومتوں کی طرح ٹی آرایس بھی اقتدار پر آتے ہی اُردو کے ساتھ نا انصافی کا آغاز کردیا۔ اُردو داں طبقہ میں ٹی آرایس کے سربراہ پر اسی لئے بھروسہ کیا تھا یہ ہمیشہ اپنی تقاریر میں اُردو کے اشعار کا استعمال اور درمیان میں اُردو میں تقریر کرتے ہوئے اُردو داں طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے نہ صرف اُردو داں بلکہ مسلمان بھی اس سیاسی حربہ سے بے حد خوش ہورہے تھے جس کی وجہ سے شہر نظام آباد کے مسلمانوں نے ٹی آرایس کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ ریاستی گورنر کی جانب سے یوم تاسیس سے قبل ضلع کلکٹر کو احکامات جاری کرتے ہوئے 2؍ جون سے 8؍ جون تک تلنگانہ کی یوم تاسیس تقاریب منانے کی ہدایت دی تھی اور اس پروگرام میں اُردو کے پروگرامس کو بھی شامل کیا گیا تھا جس میں مشاعرہ، قوالی اور کلچرل پروگرامس کو شامل کیا گیا تھا لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے صرف مشاعرہ کے پروگرام کو انجام دیا گیا اور اس پروگرام میں بھی اُردو کے بیانر کے بجائے تلگو کے بیانر نصب کرنے پر اُردو داں طبقہ کی جانب سے شدید مخالفت کرتے ہوئے پروگرام میں اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ضلع انتظامیہ پراس پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ اُردو کے پروگرامس کیلئے صرف 10 ہزار روپئے منظور کئے گئے تھے ضلع انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ پروگرامس میں سے مشاعرہ کا انعقاد کرتے ہوئے باقی پروگراموں کو نظر انداز کردیا گیا جبکہ دیگر پروگراموں کو روایتی انداز میں منعقد کرتے ہوئے ضلع کی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اُردو داں طبقہ اور مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے پر اُردو داں طبقہ کی جانب سے شدید مخالفت کی جارہی ہے نہ صرف اُردو کیساتھ بلکہ ضلع کلکٹر سیاسی قائدین کو بھی نظرانداز کرنے کی عام شکایت ہے ۔ ضلع کے اراکین اسمبلی کو پروگرامس میں کی اطلاع عام طورپر دی گئی لیکن انہیں مدعو نہ کئے جانے پر کوئی بھی رکن اسمبلی اور ایم ایل سیز ان پروگرام میں شرکت نہیں کی ۔ حالانکہ اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں ہونے کے باوجود بھی ضلع ہیڈ کوارٹر پرمنعقدہ پروگرامس میں شرکت کرنے سے قاصر رہے۔ ٹی آرایس حکومت میں بھی اُردو کے ساتھ سوتیلا سلوک اسی طرح چلتا رہا تو احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔