عادل آباد /19 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عادل آباد مجلس بلدیہ کے حدود میں صد فیصد اور ضلع میں مجموعی طور پر 90 فیصد جامع خاندانی سروے کے امکانات کو یقینی تصور کیا جارہا ہے ۔ عادل آباد مجلس بلدیہ میں 73496 خاندانوں کا سروے کرنے کی غرض 3601 افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہے ۔ جبکہ ضلع میں 789613 خاندانوں کا سروے کرنے کی خاطر 25 خاندان پر ایک بلاک قائم کرتے ہوئے 32864 بلاک بنائے گئے ہیں جن کیلئے 32864 مرد خواتین کی خدمات حاصل کی گئی ۔ ضلع میں خاندانی جامع سروے کرنے والے افراد کی سہولت کی خاطر مختلف طرز کی 1757 سواریوں کا انتظام کیا گیا ۔ جس میں 224 آر ٹی سی بس سرویس 391 خانگی بس سرویس 296 جیپ 589 ٹاٹا اے سی 229 آٹو رکشا اور 28 ٹریکٹر حاصل کئے گئے ۔ صبح مقررہ وقت سے سروے کے کام کا آغاز ہوچکا ہے ۔ جبکہ دور دراز کے مقامات خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کو ایک روز قبل ہی سروے کی ضروری اشیاء کے ساتھ روانہ کردیا گیا ۔ جامعہ خاندانی سروے کے بناء پر عادل آباد مںی تمام تجارتی چھوٹے اور بڑے مراکز جہاں ایک طرف بند دیکھے گئے وہیں دوسری طرف حسب معمولی چلنے والی آر ٹی سی کی خدمات مکمل طور پر معطل رہی ۔ بازار کی سڑکیں جہاں ایک طرف سنسان دیکھائی دے رہی تھیں وہیں دوسری طرف محلہ جات میں سروے کے پیش نطر گھما گھمی کا ماحول چھایا ہوا ہے ۔ سروے کرنے والے افراد پوری اطمینان کے ساتھ ایک مکان میں اندراج کرنے کے بعد دوسر مکان کا رخ کر رہے تھے جبکہ دیگر افراد اپنی اپنی باری کے انتظار میں تمام ضروری دستاویزات لئے منظر دیکھے گئے ۔ ملک کی سطح پر ریاست تلنگانہ میں پہلی مرتبہ منعقدہ اس سروے میں پولیس کی خدمات کو بھی حاصل کیا گیا ۔ سروے خدمات انجام دینے والے افراد کو مجلس بلدیہ کے حدود میں تغذیہ کے پیاکٹ بھی فراہم کئے گئے ۔ مقامی افراد میں بھی خاندانی جامع سروے کے تعلق سے غیر معمولی دلچسپی کو محسوس کیا گیا ۔ مستقر عادل آباد کے ڈگری کالج سے جامعہ خاندانی سروے سے متعلق ضروری اشیاء ذمہ دار عہدیداروں کو فراہم کی گئی سروے کام مکمل ہونے کے بعد اسی مقام پر واپس لوٹتے ہوئے رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ ضلع میں سروے کے نظام پر ضلع کلکٹر مسٹر ایم جگن موہن جہاں ایک طرف کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں وہیں دوسری طرف عادل آباد بلدیہ حدود میں کمشنر مسٹر شاہد مسعود آر ڈی او مسٹر سدھاکر ریڈی گشت کرتے ہوئے محسوس کئے گئے ۔