نئی دہلی 9 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے سابق چیف منسٹر ٹاملناڈو جئے للیتا کی سزا کے خلاف اپیل کی کرناٹک ہائیکورٹ میں سماعت پر حکم التوا جاری کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ جئے للیتا نے اپنی اپیل میں غیر محسوب اثاثہ جات کے مقدمہ میں انہیں سنائی گئی سزآ کو چیلنج کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت اس کیس میں پبلک پراسکیوٹر کی تبدیلی کے تعلق سے ڈی ایم کے لیلار کے امبازگھن کی درخواست پر فیصلہ کرسکتی ہے ۔ جسٹس مدن بی لوکر کی قیادت والی ایک بنچ نے انبازگھن کی درخواست پر آل انڈیا انا ڈی ایم کے سربراہ کے علاوہ دوسرے سزا یافتگان کو نوٹس جاری کی ہے جن میں جئے للیتا کی قریبی ساتھی ششی کلا اور ان کے دو رشتہ دار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کرناٹک اور پبلک پراسکیوٹر بھوانی سنگھ کو بھی نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں آئندہ سماعت 18 مارچ کو مقرر کی ہے ۔ انبازگھن نے اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ کرناٹک ہائیکورٹ میں جئے للیتا کی اپیل پر جو سماعت جاری ہے اس پر حکم التوا جاری کیا جائے کیونکہ پبلک پراسکیوٹر اب ریاست کی مدد نمائندگی کا حق نہیں رکھتے ۔ درخواست گذار نے پبلک پراسکیوٹر کو تبدے لکرنے کی بھی خواہش کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہائیکورٹ میں اپیل پر سماعت اختتامی مراحل میں ہے ایسے میں سماعت پر حکم التوا جاری نہیں کیا جاسکتا۔