تلنگانہ کیلئے قربانی دینے والوں کے اہل خانہ ایکس گریشیا سے ہنوز محروم

کاماریڈی ۔24 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاماریڈی ڈیویژن کے تاڑوائی منڈل کے موضع کنکل کے سید کریم تلنگانہ تحریک کے دوران حصول تلنگانہ کیلئے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ اور اس خاندان کی باز آبادکاری کرنے میں ریاستی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پردیش کانگریس کے ترجمان وینو گوپال گوڑ، کانگریس قائدین ہری کشن گوڑ، سرینواس و دیگر نے سید کریم کے والدین سے کنکل میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ 26؍ ستمبر2011 ء کے روز سید کریم نے علیحدہ تلنگانہ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کی تھی اور خودکشی کے بعد تحریک میں زبردست شدت پیدا ہوگئی تھی۔ تلنگانہ کیلئے جان کی قربانی دینے والے کریم کے افراد خاندان مدد کرنے میں ریاستی حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ کئی افراد کے قربانیوں کے نتیجہ میں ہی تلنگانہ کے قیام عمل میں آیا ہے لیکن حکومت انتخابات سے قبل کریم کے افراد خاندان کی مدد کرنے اور 10لاکھ روپئے ایکس گریشیاء دینے کا اعلان کیا تھالیکن اس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔ ان قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان خاندان میں سے ایک شخص کو سرکاری ملازمت اور 10لاکھ روپئے نقد اور کاماریڈی میں کریم کا مجسمہ نصب کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ایم ایل سی مسٹر محمد علی شبیر کریم کو مالی امداد کیلئے چیف منسٹر مسٹر چندرشیکھر رائو سے نمائندگی کرچکے ہیں۔ ٹی آرایس سے وابستہ قائدین اس خاندان سے ملاقات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھ رہے ہیں۔ کریم کے افراد خاندان باز آباد کاری کیلئے کانگریس کی جانب سے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا۔