ترکی میں 2 سال بعد ایمرجنسی ختم ، 1.30 لاکھ افراد ملازمتوں سے برطرف

انقرہ ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ترک حکومت نے ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد 2 سال سے نافذ ایمرجنسی ختم کردی ہے۔ ترکی میں 2016ء سے نافذ ہنگامی حالت آئینی اصلاحات اور صدارتی نظام کے بعد ختم کی گئی ہے جبکہ حکومت نے ہنگامی حالت کے خاتمہ کے بعد سخت قوانین کے اطلاق کی تیاری شروع کردی۔ ترکی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے خاتمہ کا فیصلہ پارلیمانی انتخاب میں صدر طیب اردغان کی دوبارہ کامیابی کے بعد کیا گیا۔ ترک پارلیمانی انتخابات سے قبل اپوزیشن امیدواروں کا انتخابی مہم کے دوران یہی کہنا تھا کہ اگر وہ کامیاب ہوں گے تو پہلا کام ہنگامی حالت کا خاتمہ ہوگا۔ یاد رہیکہ دو سال قبل 15 جولائی 2016ء کو ترک فوج نے رجب طیب اردغان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم عوام نے بغاوت کو ناکام بنایا جس کے دوران 249 افراد جاں بحق ہوئے۔ بعدازاں صدر رجب طیب اردغان نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی تھی جس کے دوران ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے نئے قوانین سے متعلق مسودہ آئندہ ہفتہ منظوری کیلئے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اس کی شدید مخالفت سامنے آرہی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق کسی کو بھی عدالتی منظوری کے بغیر حراست میں رکھا جاسکے گا اور مشکوک افراد کی نقل و حرکت روکنے کا حق گورنرز کو ملے گا۔