کولکتہ ۔ 17 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکمراں ترنمول کانگریس میں پارٹی ارکان پارلیمنٹ کی ایک ٹیم مدھیہ پردیش روانہ کی ہے جہاں ایک قبائیلی خاتون کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی کی گئی اور اسے برہنہ گشت کرایا گیا تھا۔ بی جے پی حکومت کی جانب سے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر مغربی بنگال کو وفد روانہ کرنے کے جواب میں ممتابنرجی نے ’’جیسے کو تیسا‘‘ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ کارروائی کی۔ ترنمول کانگریس کے 5 ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ٹیم مدھیہ پردیش روانہ ہوچکی ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری مکل رائے نے آج یہ بات بتائی۔ چیف منسٹر ممتابنرجی نے 15 جون کو کہا تھا کہ اگر بی جے پی زیراقتدار کسی ریاست میں کوئی واقعہ پیش آئے تو ترنمول کانگریس کی ٹیمیں وہاں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں جس طرح مغربی بنگال کو ٹیم روانہ کی ہے، ہم بھی جواب میں ایسی ہی ٹیم روانہ کریں گے۔ مکل رائے نے کہا کہ مرکزی حکومت مغربی بنگال میں دہشت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے
اور مرکزی ٹیم روانہ کرنے کی وجہ بھی یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگ وفود کے نام پر ریاست میں عوام کو اکسا رہے ہیں اور پرامن ماحول مکدر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا اشارہ بی جے پی وفد کے حالیہ دورہ کی طرف تھا جہاں بی جے پی کارکن رحیم شیخ کو مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے کارکنوں نے ہلاک کیا تھا۔ اس دوران بی جے پی نے مغربی بنگال میں پٹ سن مل کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر کی ہلاکت اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے ترنمول کانگریس کے الزام کو مسترد کردیا۔ ریاستی بی جے پی صدر راہول سنہا نے کہا کہ 15 جون کو پیش آئے اس واقعہ کیلئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 ماہ سے ورکرس کو تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔ حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے معاملہ میں تساہل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا کہ کیا سہ فریقی اجلاس اس مسئلہ کا حل ہے؟ انہوں نے 14 جون کو رائے دگہی علاقہ میں 4 افراد کی ہلاکت کی سی بی آئی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔