تحریک جماعت اسلامی کیلئے عبدالغفار مرحوم کی بے شمار قربانیاں

نظام آباد:27؍ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شعبہ نشرواشاعت جماعت اسلامی ہند نظام آباد کے بموجب مولوی محمد عبدالغفارکے سانحہ ارتحال پر منعقدہ جلسہ تعزیت سے خطاب کرتے ہوئے میر لیاقت علی سابق ناظم ضلع حیدرآباد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ جہد مسلسل استقلال خلوص مقصد سے تحریک سے سچی وابستگی کے ساتھ آخری دم تک اپنے عہد پر قائم و دائم رہنا یہ صفات جس شخصیت کے اندر دیکھے گئے وہ شخصیت تھی مولوی محمد عبدالغفار کی ۔جہاں تک میرے ان الفاظ کا تعلق ہے میں ان کے ابتدائی دور سے واقف ہوں اور ان کے انتقال تک کی زندگی میرے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے ۔ انہوںنے تحریک کیلئے جو قربانیاں دی اس کا شمار مشکل ہے ۔ کاروائی کا آغاز تلاوت قرآن سے ہو،جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرزند مولوی محمد عبدالغفار عبداللہ ندیم اقبال نے کہا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم بھائیوں اور اہل خاندان کو والد مرحوم کی تھوڑی سی خدمت کاموقع عنایت فرمایا ،میں تمام شرکاء جلسہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کے حق میں دعائے مغفرت فرمائیں اور وعدہ کرتاہوں کہ والد صاحب کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کروں گا۔ محمد حبیب احمد صدر ضلع حج کمیٹی نظام آباد عبدالغفار مرحوم سے اپنی قدیم وابستگی کا ذکر کیا کئی ایک واقعات کو بیان کیا اور ان کے حق میں دعائے خیر فرمائی۔ محمدعبدالعزیز سکریٹری جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت سے ہماری وابستگی1975ء؁ سے ہوئی اس دوران محمد عبدالغفار سے ہماری وابستگی اٹوٹ رہی ان کی شخصیت ایک آہنی دیوار کے مماثل تھی۔ ایم این بیگ سکریٹری خدمت خلق جماعت اسلامی نے کہاکہ میری جماعت سے وابستگی میں جہاں دوسرے عنصر بھی شامل تھے وہیں مولوی محمد عبدالغفار کے دور رس خطابات اور ان کی قائدانہ مہارت بھی شامل تھی۔ ملک معتصم خان صدر ویلفیر پارٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد عبدالغفار بے شک کسی مدرسے یا یونیورسٹی کے فارغ یا سند یافتہ نہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی قائدانہ صلاحیت بصیرت و بصارت سے نوازا تھا کہ وہ کسی بھی بڑے سے بڑے تعلیم یافتہ کے سامنے کبھی مرعوب نہیں ہوتے تھے یہ خاصہ صرف اللہ والوں کو ہی نصیب ہوتاہے۔ خواجہ نصیر الدین ناظم ضلع جماعت اسلامی نے کہا کہ میں نے مولانا سے ان کی زندگی میں ایک انٹرویو لیاتھا جس سے میرے سامنے ان کی زندگی کے مختلف پہلواجاگر ہوئے جن کی تفصیل کا یہ موقع بہرحال نہیں ہے لیکن کچھ ضروری باتیں میں پیش کئے دیتاہوں ۔ مولانا1956ء؁ میں موضع باباپور سے نظام آباد منتقل ہوئے 1957ء میں جماعت سے وابستہ ہوئے 1960ء میں موصوف کی رکنیت منظور ہوئی 1966ء میں امیر مقامی نظام آباد مقرر ہوئے ۔1975ء میں ایمرجنسی نافذ ہوئی 4؍جولائی 1975ء کودیگر اور رفقاء کار کے ہمراہ پابند سلاسل کئے گئے مکمل 21ماہ بعد جیل سے رہا ہوئے۔ اس کے بعد1977ء میں ناظم ضلع مقرر کئے گئے ان کی شاندار خدمات کے پیش نظر 1988ء میں ناظم علاقہ کی ذمہ داری سونپی گئی۔1980ء سے 1995ء تک مجلس نمائندگان کیلئے منتخب ہوئے 1966ء میں ہی مسلم مجلس مشاورت کے معتمد مقرر ہوئے 1972ء؁ سے 1979ء تک مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اڈھاک کمیٹی کے معتمد بنائے گئے 1992ء میں شہادت بابری مسجد پر بنائی گئی کمیٹی کا کنوینر مقرر کیاگیا2004ء میں مسلم یونائیٹڈ فورم کے معتمد منتخب کئے گئے مولانا مسجد رضا بیگ احمد بازار سے1957ء سے منسلک ہوئے اور اپنے انتقال سے کچھ سال قبل تک اپنے دورس خطابات امام وخطیب کی حیثیت سے اعزازی خدمات انجام دیتے رہے جس کیلئے ان کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔جناب احمد عبدالحلیم ناظم علاقہ نے جلسہ کی صدارت کی۔ جلسہ کی کاروائی محمد عبدالرحمن دائودی امیر مقامی نے انجام دی۔ احمد عبدالعظیم صاحب کی رقت انگیز دعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔جناب عبدالماجد نثار نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔