کاغذنگر /9 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسٹر کونیرو کونپا رکن اسمبلی سرپور نے اپنی رہائش گاہ پر 1969 ء میں تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کو تہنیت پیش کی جن کا تعلق شہر کاغذنگر سے ہے اور جو یہاں طالب علم رہے ہیں ۔ تہنیتی جلسسے قبل تلنگانہ تحریک میں شہید ہونے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی منائی گئی ۔ بعد ازاں موصوف نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ تحریک میں کامیابی کے سبب ہی ہمیں ریاست تلنگانہ حاصل ہوئی جو کسی ایک فرد کی کاوش و محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجتماعی کوشش ہے۔ علحدہ تلنگانہ کیلئے کئی معصوم جانوں کی قربانی دینی پڑی ۔ انہیں کی قربانیوں کی وجہ تلنگانہ ریاست ہمیں ملی ۔ کاغذنگر میں 1969 تلنگانہ تحریک فورم قائم کئے ۔ ایک عرصہ گذر چکا ہے ۔ اس فورم میں وہی لوگ شامل ہیں جو 1969 کی تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ جیل گئے مصیبتیں جھیلیں اور پولیس کی لاٹھاں کھائیں ۔ انہیں کی بے لوث خدمات کو ملحفوظ رکھتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی جارہی ہے جو ان کیلئے باعث فخر بھی ہے ۔ مسٹر کونیرو کونپا نے تیقن دیا کہ حلقہ اسمبلی سرپور کی ترقی کیلئے وہ دن رات محنت کریں گے ۔ مختلف ادھورے پراجکٹس کے تعمیری کاموں کو وہ پایہ تکمیل تک پہونچائیں گے اور اندرون دوف ماہ کاغذنگر کے ریلوے اوور برج کا تعمیری کام مکمل کروائیں گے ۔ آخر میں انہوں نے تمام ووٹرس سے اظہار تشکر کیا ۔ مسٹر ستیا نارائنا سکریٹری 1969 ء تلنگانہ تحریک فورم نے مسٹر کونیرو کونپا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔ مسٹر پرساد سی ایچ ستیا نارائنا سابقہ زیڈ پی ٹی سی نے مسٹر کونیرو کونپا کے علم میں یہ بات لائی کہ حکومت کی جانب سے 1969 میں تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کیلئے اعزازات ملنے چاہئے ۔ اس موقع پر مسٹر دیش مکھ سرینواس میونسپل کونسلر ، جناب ذاکر شریف ، مسٹر بالو ، مسٹر رامو ، مسٹر ستیا نارائن گوڈ ، مسٹر کے پرساد اور مسٹر ارلہ سنیل کمار ، قائدین موجود تھے ۔ مسٹر کونیرو کونپا نے مسٹر کے راجہ رام پرسیڈنٹ ، مسٹر ایم ستیا نارائنا سکریٹری کے علاوہ مسٹر سبھاش ایم آر او موظف مسٹر بابو راؤ ، جناب سلیم ، مسٹر دیو راج ، جناب شیخ بابو ، جناب عبدالوہاب ، مسٹر دیونا ، مسٹر قطب الدین ، ناگیندر ، مسٹر کرشنیا ، جناب سید مبین الدین ، مسٹر کومریا ، مسٹر شیام راؤ ، مسٹر لکشمن ، جناب صدیق قمر ، جناب رشید خان ، جناب محمد قمرالدین اور جناب رشید خان کی گلپوشی اور شال پوشی کی ۔ مسٹر ایم ستیا نارائن کے شکریہ پر جلسہ اختتام پذیر ہوا ۔