بی جے پی کو اقتدار سے روکنے تیسرے محاذ کو عام آدمی پارٹی کی حمایت

وارانسی۔ 11؍مئی (سیاست ڈاٹ کام)۔ عام آدمی پارٹی نے آج کہا کہ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کے لئے تیسرے محاذ کی حمایت کی جائے گی۔ غیر کانگریس ’سیکولر‘ مزاج کی حامل پارٹیوں کی بھرپور تائید کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حمایت مسائل کی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے لئے شور و شرابے کے اختتام کے ساتھ ہی کل ہونے والی رائے دہی کے بعد حکومت سازی کا عمل تیز ہوجائے گا۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ عام آدمی پارٹی مرکز میں تیسرے محاذ کی حکومت کی مسائل کی بنیاد پر تائید کی پیشکش کررہی ہے۔ اگر تیسرے محاذ کے قیام کے لئے کوششیں شروع کی جاتی ہیں تو 16 مئی کے بعد ہی انتخابی نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔ گوپال رائے نے کہا کہ جی ہاں، ہم مسائل کی بنیاد پر حمایت کریں گے۔ اگر مرکز میں ایسی کوئی صورتِ حال پیدا ہوجائے تو تیسرے محاذ کی حکومت کی تائید کرنا وقت کا تقاضہ ہوگا۔

بی جے پی کو اقتدار سے روکنا ہمارا مقصد ہے۔ اس سلسلہ میں سیکولر طاقتوں سے مل کر بات چیت ہورہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو اور اسی طرح دیگر کئی قائدین کے ساتھ گزشتہ ایک دو ہفتہ سے بات چیت جاری ہے۔ امکان غالب ہے کہ کانگریس کا مظاہرہ اتنا مضبوط نہیں ہوگا کہ وہ یو پی اے سوم حکومت بناسکے۔ گوپال رائے کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کے قریبی ساتھی ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ انتخابی نتائج کے بعد ہی کیا جائے گا۔ عام آدمی پارٹی نے 422 لوک سبھا حلقوں پر اپنے امیدوار کھڑا کئے ہیں اور کجریوال نے قبل ازیں دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی کم از کم 100 نشستوں پر کامیاب ہوگی، تاہم گوپال رائے نے عام آدمی پارٹی کو ملنے والی نشستوں کی تعداد بتانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کو ٹال دیا اور کہا کہ پارٹی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

اگر اس نے ان انتخابات میں بہتر مظاہرہ نہیں کیا ہے تو وہ اپنی جنگ ترک نہیں کرے گی۔ عام آدمی پارٹی نے گزشتہ سال دسمبر میں دہلی اسمبلی انتخابات میں 28 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ پارٹی کے سینئر قائدین نے بھی کہا کہ لوک سبھا میں بھی ان کی پارٹی حیرت انگیز کامیابی کا اعادہ کرے گی۔ پارٹی کو توقع ہے کہ وہ پنجاب، ہریانہ اور دہلی میں اچھا مظاہرہ کرے گی۔ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پارلیمنٹ میں دیانتدار سیاست داخل ہو۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ یہ 10 نشستیں ہوں یا 30 نشستوں پر اسے کامیابی ملے، ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے اور منظم طریقہ سے تبدیلی لانے کے لئے دباؤ ڈالیں گے۔ گزشتہ ہفتہ سی پی آئی ایم لیڈر پرکاش کرت نے کہا تھا کہ 1996ء کی طرح صورتِ حال کا اعادہ ہونے والا ہے اور امکان ہے کہ کانگریس مجبوراً سیکولر پارٹیوں کی حمایت کرے گی۔ بی جے پی کو اقتدار سے دُور رکھنے کے لئے سیکولر پارٹیوں کا گروپ تشکیل دیا جائے گا۔