بی جے پی پر کانگریس کا جوابی وار ، گجرات فسادات کا حوالہ

نئی دہلی ۔ 17 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج سجن کمار کو 1984 ء سکھ دشمن فسادات مقدمہ میں مجرم قرار دینے کے واقعہ کو بی جے پی کی جانب سے سیاسی رنگ دینے پر جوابی وار کرتے ہوئے 2002 ء کے گجرات مسلم کش فسادات کا حوالہ دیا ۔ پارٹی نے مدھیہ پردیش کے نئے چیف منسٹر کمل ناتھ کا بھی دفاع کیا جنھیں بی جے پی اور اکالی دل نے اپنی تنقید کانشانہ بنایا تھا اور کہاتھا کہ اُن کے خلاف کوئی مقدمہ زیرالتواء نہیں ہے لیکن کمل ناتھ اس عہدہ کے قابل نہیں تھے اور صدر کانگریس راہول گاندھی کو اُن کے انتخاب پر اور سکھ دشمن فسادات کے فیصلہ میں کانگریسی قائد سجن کمار کو مجرم قرار دیئے جانے پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیدینا چاہئے ۔ اُن پر تنقید کے سلسلے میں چیف منسٹر پنجاب امریندر سنگھ زیادہ پرشور تھے ۔ اُنھوں نے اپنے ایک بیان میں پرزور انداز میں کہاکہ نہ تو کانگریس پارٹی اور نہ گاندھی خاندان کا فسادات میں کوئی کردار ہے ، تاہم الزام عائد کیا کہ سیاسی مفادات حاصلہ اپنے ناموں کو تنازعہ سے باہر نکال لینے کی کوشش میں ہیں ۔ ایک اور کانگریس قائد کپل سبل نے کہاکہ عدالت کے فیصلے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ سینئر پارٹی قائد غلام نبی آزاد نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے کئی قائدین راست یا بالواسطہ طورپر گجرات فسادات میں ملوث تھے ۔ ابھشیک سنگھوی نے کہاکہ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے لیکن اُنھیں بے قصور نہیں کہا جاسکتا آخر بی جے پی بار بار مایا کوڈنانی کو بے قصور قرار دینے کی کوشش کیوں کرتی ہے ۔ صدر پنجاب پردیش کانگریس سنیل کمار جاکھر نے کہا کہ پارٹی کا موقف واضح ہے جو بھی فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہوجائے اُسے سزاء ضرور ملنی چاہئے ۔ اُنھوں نے کہاکہ گجرات ہائیکورٹ نے اپریل میں بی جے پی کی سابق وزیر مایا کوڈنانی کو نروڈا پاٹیہ مقدمہ میں مجرم قرار دیا تھا اور اُنھیں تحت کی عدالت نے گجرات فسادات کے جرم میں 28 سال کی سزائے قید دی تھی ۔