بی جے پی نے رشوت کاالزام لگاکر اقتدار حاصل کیا

’’یوپی اے پرکوئی الزام ثابت نہ ہوسکا، ہاتھ میں کنول پکڑ کر دوسروں پر کیچڑ اُچھالنا نامناسب‘‘
اُدھو ٹھاکرے کا ’سامنا ‘کو انٹرویو
ممبئی ۔24 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا کے سربراہ اُدھو ٹھاکرے نے آج دعویٰ کیاکہ 2014 ء کے دوران مہاراشٹرا میں بی جے پی کو قیام حکومت کیلئے اگر ان کی پارٹی کی طرف سے بی جے پی کی تائید نہ کی جاتی تو وہ ( بی جے پی ) دو اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور این سی پی میں پھوٹ ڈالکر اپنی حکومت بناتی تھی ۔ اُدھو ٹھاکرے نے طنز پر مبنی اپنے ریمارکس میں کہاکہ 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات میں عوام نے بی جے پی کو ووٹ دیکر کوئی غلطی نہیں کی تھی لیکن الزام عائد کیا کہ انھیں ( عوام کو ) دھوکہ دیا گیا تھا ۔ انھوں نے یو پی اے کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات عائد کرنے والی بی جے پی پر انگشت نمائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ( بی جے پی ) صرف یو پی اے پر رشوت کے الزامات عائد کرتے ہوئے اقتدار تک رسائی حاصل کی ہے لیکن تاحال رشوت کا ایک بھی الزام ثابت نہیں کرسکی ہے۔ ٹھاکرے نے کہاکہ ’’ہم اگر بی جے پی حکومت میں شامل نہ ہوئے تو بی جے پی جس طرح ہرممکن طریقہ سے دوسری ریاستوں جیسے تریپورہ میں کانگریس اور ٹی ایم سی میں پھوٹ ڈال کر اقتدار پر قبضہ کی ہے اس انداز میں مہاراشٹرا میں بھی کانگریس اور این سی پی میں پھوٹ ڈال کر اقتدار پر قبضہ کرسکتی تھی ‘‘ ۔ ٹھاکرے نے کہاکہ ’’ایسا ہونے دینے کے بجائے میں نے اپنے افراد کو حکومت میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کرنے کاموقع دیا‘‘ ۔شیوسینا کے رہنما نے سوال کیا کہ 2G اسکام کا کیا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں خوب بحث مباحثے ہوئے تھے ۔ شیوسینا قائد نے اپنی پارٹی کے ترجمان مراٹھی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں مزید کہا کہ ’’جس وقت (2G اسکام ) منظرعام پر آیا تھا ملک کا امیج انتہائی نچلی سطح پر آگیا تھا ۔ اور یوں سمجھا جانے لگا تھا کہ کوئی بھی دوسرا ملک ہندوستان سے بڑھ کر رشوت میں ملوث نہیں ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت بدل گئی لیکن کرپشن کے الزامات پر ہنوز کچھ نہیں ہوا ہے ۔ حتیٰ کہ آج بھی آپ ( بی جے پی ) کرپشن کے 60 سال کی باتیں کررہے ہیں لیکن اس کا بھی آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ‘‘ ۔