نئی دہلی 23 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج مرکز کی برسر اقتدار این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی سربراہ جماعت بی جے پی اتر پردیش میں پیش آئے فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ریاست میں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مایاوتی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن بی جے پی کی جانب سے ریاست میں پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد اور کشیدگی کے واقعات کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ یہاں ضمنی انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں نئی حکومت قائم ہوئے تین ماہ کا وقت گذر چکا ہے اور اس دوران حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس ) ایک غیر دستوری تنظیم کے طور پر ابھر رہی ہے اور حال ہی میں اس کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے ہندوتوا پر جو ریمارکس کئے گئے ہیں ان سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام شہری ہندو ہیں ۔ ہند پاک معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو منسوخ کردینے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ یہ فیصلہ سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا اور مبنی بر اغراض دکھائی دیتا ہے ۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے رکن امر سنگھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ جس پارٹی میں بھی گئے ہیں اس کو زوال آگیا ہے ۔