بی جے پی عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے تنازعات کھڑا کرنے میں مصروف:ترنمول کانگریس

کلکتہ24دسمبر(سیاست ڈاٹ کام )بی جے پی کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سیکریٹری جنرل و ریاستی وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے کہا ہے کہ بنگال بی جے پی عوام کے مسائل و مشکلات سے متعلق بات چیت کرنے کے بجائے صرف اور صرف سرخیوں میں رہنے کیلئے [؟]تنازعات[؟] کھڑا کررہی ہے اور بنگال میں امن وامان کی فضاء کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پارتھیو چٹرجی نے کہا کہ بی جے پی عوامی ایشوز پر بات نہیں کرتی ہے ، صرف ایئر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر تنازعات کھڑا کرتے ہیں تاکہ میڈیا میں چھائے رہیں اور میڈیا بھی انہی ایشوز پر بات کرتی ہے ۔بی جے پی کو بنگال کے عوام اور ان کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔یہ لوگ مرکزی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بات کرنا نہیں چاہتے ہیں۔صرف منفی باتیں کرتے ہیں اور اخباروں کی سرخی بننا چاہتے ہیں۔بنگال میں رتھ یاترا کی اجازت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے بی جے پی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے چٹرجی نے کہا کہ بی جے پی کچھ بھی کرلے وہ بنگال کے عوام کا دل نہیں جیت سکتی۔یہ سوال ہی نہیں وہ کیا کررہے ہیں اور کیا نہیں۔اس سے قبل بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا تھا کہ ممتا بنرجی کسی بھی صورت میں بی جے پی کی راہ کو روکنے کیلئے کوشش کررہی ہیں۔مگر ہم لا اینڈ آرڈ کی پرواہ کیے بغیر پارٹی کی راہ روکے جانے کے خلاف احتجاج کریں گے ۔پولس کی مدد کی لی جارہی ہے ۔گھوش نے کہا تھا کہ اگر ممتا بنرجی سمجھتی ہیں کہ وہ اس مہم میں کامیاب ہوجائیں گی تو یہ ان کی خام خیالی ہے ۔اگر یہ لوگ ہمیں روکنے کی کوشش کی تو ریاست میں لا اینڈآرڈر کی صورت حال مزید خراب ہوجائیں گے ۔دلیپ گھوش کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ بنگال میں لا اینڈ آرڈر ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے ۔انہوں نے مقامی میڈیا سے کہا کہ جو لوگ بنگال کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ اور بنگال کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کا بائیکاٹ کریں۔چٹرجی نے کہا کہ بنگال میں لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔بنگال وہ ریاست نہیں ہے جہاں پولس اہلکار کو گولی مارکر ہلاک کردیا جاتا ہے یا پھر بے قصور افراد کو زندہ جلادیا جاتا ہے ۔ممتابنرجی کی قیادت میں بنگال میں امن و امان اور بھائی چارہ کا ماحول ہے ۔ا ن لوگوں کو اسی سے پریشانی ہے ۔اس لیے وہ اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس لئے مقامی میڈیا اس کا بائیکاٹ کریں۔