نئی دہلی ۔ 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں حکومت بنانے کیلئے بی جے پی کوشاں نظر آرہی ہے۔ اس کے ارکان اسمبلی نے تازہ انتخابات کا سامنا کرنے سے گریز کا اشارہ دیا ہے۔ دہلی میں گذشتہ 5 ماہ سے صدر راج جاری ہے۔ عام آدمی پارٹی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ بڑے پیمانے پر سودے بازی میں مصروف ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی کے بعد بی جے پی کانگریس کے 6 ارکان اسمبلی کو فی کس 20 کروڑ روپئے کی پیشکش کرتے ہوئے ارکان کو خریدنا چاہتی ہے۔ بی جے پی نے حکومت بنانے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن اس سے مطلوب ارکان کی تعداد کس طرح حاصل کرے گی یہ واضح نہیں کیا گیا۔ بی جے پی دہلی یونٹ کے نئے مقررہ صدر ستیش اپادھیائے نے پارٹی کے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ سے دور مرتبہ علحدہ علحدہ ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کی جانب سے تشکیل حکومت کی دعوت کا انتظار ہے۔ اگر گورنر مدعو کرتے ہیں تو ہم اس پر غور کریں گے۔ فی الحال بی جے پی کے حلیف پارٹی اکالی دل کے واحد رکن اسمبلی کے بشمول 29 ارکان اسمبلی ہیں۔ اسمبلی میں سادہ اکثریت کیلئے اسے مزید 5 ارکان اسمبلی کی تائید ضروری ہے۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ بی جے پی کے سابق وزیر فینانس دہلی جگدیش مکھی چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور سابق چیف منسٹر اروند کجریوال نے دہلی میں تازہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی فی کس 20 کروڑ روپئے میں کانگریس کے 6 اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے۔ بی جے پی کے اندرونی ذرائع نے کہا کہ کانگریس کے 5 ارکان اسملی نے انہیں بی جے پی حکومت کی تائید کرنے کیلئے اپنا ایک علحدہ گروپ بنانے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔