افسوس ! ایسے لیڈران برسر اقتدار ہیں جو جدوجہد آزادی میں کبھی جیل نہیں گئے، لالو سے مفاہمت وقت کی اہم ضرورت
حاجی پور ۔ 11 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہے اور نہ کوئی مستقل دشمن۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک دوسرے کے سیاسی حریف سمجھے جانے والے نتیش کمار اور لالو پرساد کو آج ایک دوسرے سے اس وقت بغلگیر ہوتے دیکھا گیا جب دونوں نے 21 اگست کو منعقد شدنی اسمبلی ضمنی انتخابات کے لئے اپنے گٹھ جوڑ والے امیدواروں کیلئے مشترکہ مہم جوئی کا آغاز کیا ۔ اب دونوں قائدین مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف کمربستہ ہوگئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ نتیش کمار نے لالو پرساد سے 1994 ء میں اپنے سیاسی تعلقات منقطع کرلئے تھے اور 2005 ء میں بی جے پی سے مفاہمت کرتے ہو ئے لالو پرساد کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ اس نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں اس کی تکمیل نہیں کرسکتی اور اقتدار پر برقرار رہنے بی جے پی مذہبی منافرت بھی پھیلائے گی ۔ انہوں نے بی جے پی پر طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی حکومت تو چلاسکتی ہے لیکن ملک نہیں چلاسکتی۔ جن اچھے دنوں کا وعدہ کیا گیا تھا ، کیا وہ اچھے دن آئے؟ اپنے اس سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اچھے دن کبھی نہیں آئیں گے ، البتہ بی جے پی ارکان کیلئے اچھے دن ضرور آگئے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ان کے ’’اپنے دن‘‘ آگئے ہیں۔ نتیش کمار نے بی جے پی سے بھی گزشتہ سال اپنے تعلقات توڑلئے تھے کیونکہ مودی کو پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار بنائے جانے کی نتیش کمار نے کھل کر مخالفت کی تھی ۔ یہاں تک کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں جب ان کی پارٹی جے ڈی (یو) کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے وزارت اعلیٰ کے عہدہ سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا ۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لالو پرساد کی آر جے ڈی سے مفاہمت وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ملک کو خطرہ لاحق ہے ۔ بی جے پی کو ایک بار پھر ہدف تنقید بناتے ہوئے نتیش نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسے لیڈران برسر اقتدار ہیں جو جنگ آزادی کے دوران ایک بار بھی جیل نہیں گئے ۔ ہمارے آبا و اجداد نے جنگ آزادی میں اپنی جانیں نچھاور کیں جیسے مہاتما گاندھی اور دیگر اہم لیڈران جن کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں لیکن افسوس ! اب ایسے لیڈران مسند اقتدار پر ہیں جن کا جدوجہد آزادی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ نتیش کا اشارہ بی جے پی کے آقا آر ایس ایس کی جانب تھا جس نے جدوجہد آزادی کے دوران کسی بھی سیاسی سرگرمیوں سے خود کو دور رکھا تھا۔