بین مذہبی شادی کا شاخسانہ ، مسلم لڑکی کی ہراسانی سے خودکشی

حیدرآباد /11 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) بین مذہبی شادی کرنا ایک مسلم لڑکی کیلئے اذیت کا سبب بن گیا ۔ جہاں اپنے عاشق شوہر کی اذیت رسانی و ہراسانی سے تنگ آکر خاتون نے بالا آخر خودکشی کرلی ۔ میرپیٹ پولیس حدود میں یہ واقعہ پیش آیا جہاں 22 سالہ شیخ ثمینہ نے کل رات پھانسی لیکر خودکشی کرلی ۔ ثمینہ نے تین سال قبل اپنے عاشق ناگرجنا سے شادی کرلی تھی ۔ جو پیشہ سے خانگی ملازم تھا ۔ یہ لوگ شادی کے بعد الماس گوڑہ میں واقعہ راجیو گرہا کلپا کے ہاوزنگ کامپلکس میں رہتے تھے ۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ لڑکی ثمینہ کا تعلق چمپاپیٹ سے بتایا گیا ہے ۔ شادی سے قبل دونوں میں محبت ہوگئی تھی اور دونوں نے اپنی پسند سے شادی کرلی تاہم گذشتہ چند روز سے ناگرجنا ثمینہ کے کردار پر شک کر رہا تھا اور اس خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کر رہا تھا ۔ جس سے تنگ آکر اس نے ایک ہفتہ قبل خودکشی کا اقدام کیا تھا ۔ اور کل رات پھانسی لیکر خودکشی کرلی ۔ پولیس مصروف تحقیقات ہے ۔