بھاگوت کے’’شیر اور کتا ‘‘بیان کا نشانہ مسلم نہیںدلت

صدر کُل ہندمتحدہ مسلم مورچہ کے صدراور سابق ایم پی ڈاکٹر اعجاز علی کی وضاحت

نئی دہلی، 9اگست (سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے صدر اورسابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ایم اعجاز علی نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ‘شیر اور کتاکی مثال والے بیان’ کے تناظر میںآج کہا کہ سنگھ کی طرف سے دئے گئے بیانات کو مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے خلاف بیان کے طورپر نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس کے بین السطور میں جو بات ہے اس پر غور کرنا چاہئے تاکہ اس کا مناسب جواب دیا جاسکے ۔ڈاکٹر اعجاز علی نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہاکہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے جس طرح ‘شیر اور کتے ‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں وہ دراصل ‘کہیں پہ نگاہیں ، کہیں پہ نشانہ’ والی بات ہے ۔سابق ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ سیکولرازم کا ڈھول پیٹنے والی طاقتیں اس بیان کو مسلمانوں کے خلاف بیان دے کراصل بات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کریں گی دوسری طرف آرایس ایس سے وابستہ اور اس کی ہم خیال جماعتیں اورتنظیمیں اس کی آڑ میں ہندووں کومتحد کریں گی۔ خیال رہے کہ مسٹر موہن بھاگوت نے شکاگو میں منعقد دوسری عالمی ہندو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ”ہندو ہزاروں برسوں سے ظلم و زیادتی کاشکار رہے ہیں کیوں کہ وہ اپنے بنیادی اصول اورروحانیت کوبھول گئے ہیں۔ ہمیں ساتھ آنا ہوگا… اگر شیر اکیلا ہوتا ہے تو جنگلی کتے اسے اپنا شکار بنالیتے ہیں، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے ۔”ڈاکٹر اعجاز علی کا کہنا ہے کہ مسٹر موہن بھاگوت کا بیان دراصل ایس سی ، ایس ٹی ایکٹ کے پس منظر میں دیا گیا ہے ۔اس ایکٹ کے سلسلے میں ملک میں اس وقت جس طرح کا ماحول بنا ہوا ہے اس میں آر ایس ایس کے ”شیر” یعنی ہندووں کے اعلی ذات کی شکست یقینی ہے ۔ انہیں ہندوستان کے دبے کچلے طبقات کا اقتدارپر بڑھتی ہوئی گرفت میں اپنے لئے خطرہ نظر آرہاہے ۔ لیکن انہوں نے بیان اس طرح دیا ہے گویا مسلمان ان کے نشانے پر نظر آئے اور سماج کا پسماندہ اور دلت طبقہ ‘جسے وہ جنگلی کتا’ سمجھتے ہیں انہیں کے شیر کے ارد گرد اکٹھا ہوجائے ۔ڈاکٹر اعجاز علی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی فرقہ وارانہ مسئلہ کو اپنے اوپر نہ لیں بلکہ خوب سوچ سمجھ کرحکمت کے ساتھ کوئی فیصلہ کریں تاکہ سماجی انصاف کا نعرہ کمزورنہ ہو۔ مسلمانوں کوچاہئے کہ و ہ دلت ۔ مسلم صف بندی کو مضبوط کریں تاکہ ملک فسادات سے پاک رہے ۔