مد ہول /5 فروری ( سیاست ڈسٹر کٹ ) مرکزی حکو مت بچوں کے تحفظ اور ان کی تعلیم و تربیت کیلئے کو شاں ہیں اسی لئے حکو مت نے بچہ مزدوری پر سخت قانون کو لا گو کیا تا کہ بچہ مزدوری کا خاتمہ ہو اور بچہ کو اس کے بچپن کی خوشیاں حا صل ہوں تا کہ یہ بڑا ہو کر ملک کے باوقار شہر ی بنیں اس لئے بچوںکے حقوق کی فراہمی کر نے کیلئے کم عمر شادیوں پر بھی سخت روک لگائی ہے ریاست تلنگانہ میں بچوں کے حقوق کی فراہمی کیلئے حکومت سنجیدہ اقدمات کر رہی ہے ان خیالات کا چائیلڈ پروٹکشن آفیسر ضلع عادل آباد مسٹر راجندر پر ساد نے شہر مدہول میں منعقدہ بچہ تحفظ پروگرام سے مخاطب ہو کرکیا، انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے سماج و ملک کی خدمت کیلئے تیار کر نا ہے نا کہ ان کا استحصال کر نا ہے انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم بچوں کا قانونی حق ہے اس حق سے انہیں محروم کر نا غیر قانونی حر کت میں شامل ہے مسٹر راجندر نے مز ید بتا یا کہ کم عمر میں بچوں کی شادی ، بچہ مزدوری سماج میں روکنے کیلئے حکو مت کی جا نب سے ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ منڈل سطح اور مقامی سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی جارہی ہے تا کہ بچوں کا تحفظ ہو سکے مسٹر راجندر پر ساد نے مز ید کہاکہ منڈل سطح پر تشکیل کردہ کمیٹی میں چیر مین کی حیثیت سے انو شاء سائی بابا ایم پی پی مدہول کو منتخب کیا گیا سیکریڑی کیلئے تحصیلدار مدہول این نارائنہ کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ کنوینر کیلئے سو پر وائز آئی سی ڈی ایس تسلیم سلطانہ کو فائز کیا گیا اسی طرح ممبر س کیلئے نور محمد ایم پی ڈی او مدہول ، وشواناتھ کدم منڈل ایجو کیشن آفیسر ، ڈاکٹر پی سند ری میڈیکل آفیسر ، بی سریدھر ایس آئی مدہول ، سمے کے صدر پدما ، ثنا اللہ خان سیول سو سائٹی ممبر ، جو تی کشور با لیکا ، ما دھوری اے پی ایم محکمہ آئی کے پی، شیو لنگیا اے پی اومحکمہ ای جی ایس اور شفیع اللہ خان پر یس کلب صدر مدہول شامل ہے کو ممبر منتخب کیا گیا واضح رہے کہ مقامی سطح پر تشکیل کر دہ کمیٹی کیلئے چیر مین کی حیثیت سے بی انیل سر پنج مدہول کو منتخب کیا گیا مذکورہ کمیٹی بچہ مزدوری اور کم عمر میں ہو نے والی شادیوں کو بچوں کے تحفظ کے ضمن میں کام کر نا ہوگا اس موقع پر سرکاری عہدیدار و عوامی نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔