بودھ خانقاہ کو پولنگ بوتھ بنانے پر راہبوں کو اعتراض

مسجد، مندر کو پولنگ بوتھ نہیں بنایا جاتا، پھر خانقاہ کے ساتھ یہ امتیاز کیوں
کولکتہ ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن کے ایک فیصلہ نے یہاں کے بودھ راہبوں کو مشتعل کردیا ہے کیونکہ ایک 117 سال پرانی بودھ خانقاہ کو الیکشن کمیشن نے پولنگ بوتھ میں تبدیل کردیا ہے۔ بو بازار علاقہ میں واقع بودھ خانقاہ بودھا دھرمنکور سبھا میں ایک چھوٹا اسکول بھی چلایا جاتا ہے لیکن 12 مئی کو منعقد شدنی رائے دہی کے لئے اس مقام کو پولنگ بوتھ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر خانقاہ کے جنرل سکریٹری ہیمندو بکاش چودھری نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہیکہ الیکشن کمیشن نے ہمیں ہدایت کی ہیکہ خانقاہ کو پولنگ کیلئے دستیاب رکھا جائے۔ یہ ایک چھوٹا سا اسکول ہے جو خانقاہ کے اندر واقع ہے۔

ایک مذہبی مقام کے اندر رائے دہی کیونکر منعقد کی جاسکتی ہے۔ جب مسجد یا مندر میں پولنگ بوتھ نہیں بنایا جاتا تو پھر بودھ خانقاہ میں کیونکر بنایا جاسکتا ہے؟ ہم نے اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے اور یہاں تک کہ چیف الیکٹورل آفیسر سنیل گپتا چودھری سے ملاقات بھی کی ہے۔ تاہم کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ جو فیصلہ ہوگیا وہی برقرار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہیکہ ہمیں یہ ہدایت بھی کی گئی ہیکہ 14 مئی کو بھی خانقاہ کو دستیاب رکھا جائے جو بودھ پورنیما کادن ہے جو ملک کا ایک بڑا تہوار ہے۔ اگر دوبارہ رائے دہی کا حکم جاری ہوا تو وہ 14 مئی کو ہوگی۔ خانقاہ جو کولکتہ کی قدیم ترین بودھ خانقاہ ہے، میں 14 مئی کو بودھ پورنیما تقریبات منسوخ کرنے کے علاوہ حکام کے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے۔