بودھن کے ترقیاتی کاموں کیلئے مختص فنڈ کی عدم اجرائی

بودھن /10 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شہر میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور سلم علاقوں میں ڈرینج نظام کی درستگی کیلئے سابقہ کانگریس حکومت نے 12 کروڑ روپئے رقم کی منظوری عمل میں لائی تھی ۔ اس ضمن میں 12 فروری 2014 کو جی او سلسلہ نشان 58 کی اجرائی عمل میں آئی تھی ۔ سابقہ ریاستی وزیر مسٹر پی سدرشن ریڈی کے دور اقتدار میں بودھن شہر میں ترقیاتی کام انجام دینے 17 کروڑ روپیوں پر مبنی تجاویز تیار کرکے کمشنر و پرنسپل سکریٹری متحدہ ریاست آندھراپردیش کو روانہ کیا گیا تھا ۔ جہاں پر بتدریج تجاویز حکومت آندھراپردیش نے 12 کروڑ روپئے بلدیہ بودھن کو منظور کرنے جی او جاری کردیا تھا ۔ بلدی الیکشن کے اعلامیہ کی اجرائی کے بعد یہ رقم روک دی گئی تھی ۔ بعد ازاں جولائی 2014 کو نئی نومنتخب کونسل نے جی او 58 کے تحت بلدیہ بودھن کو منظورہ رقم کی اجرائی کیلئے میونسپل اڈمنسٹریشن سے درخواست کی لیکن موجودہ تلنگانہ سرکار سابقہ دور حکومت میں جاری کردہ جی او کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اس کے بعد نئی منتخب ریاستی حکومت نے شہری علاقہ اور مواضعات میں ترقیاتی کام انجام دینے اپنا گاؤں اپنے تجاویز عنوان سے مہم چلائی تھی ۔ اس مہم کے دوران بودھن شہر میں تقریباً 8 کیلو میٹر سڑکیں اور تقریباً 12 کیلومیٹر تک ڈرینجس تعمیر کرنے عوام کی جانب سے مطالبات پیش کئے گئے تھے ۔ سابقہ حکومت و موجودہ حکومت کی جانب سے طلبہ کئے گئے ترقیاتی کاموں پر تاحال عدم عمل آوری کی وجہ سے منتخب عوامی نمائندے اور شہریان بودھن بلدی مسائل سے دوچار ہے ۔ گذشتہ ہفتہ بلدیہ بودھن میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں شریک رکن پارلیمنٹ شریمتی کے کویتا اور رکن اسمبلی بودھن شکیل عامر نے بلدیہ بودھن کیلئے مختص کردہ 12 کروڑ روپیوں کا اجلاس میں ذکر کیا اور انہوں نے اس رقم کی اجرائی کیلئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے نمائندگی کرنے کا کونسل کو تیقن دیا ۔ اگر مذکورہ رقم کی اجرائی عمل میں آگئی تو فی الفور شہریان بودھن کے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہوجائیں گے ۔ شہر بودھن کے بلمال آبی ذخیرہ میں ہمیشہ محفوظ پانی جمع رہتا ہے لیکن دن بہ دن شہر کی آبادی میں اضافہ اور بغیر لے آوٹ کے پلاٹس و مکانات کی تعمیرات کی وجہ سے شہر میں پینے کے پانی کی قلب ہوتی رہتی ہے ۔