بودھن /9 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بودھن شہر کے وسط میں موجود چھکی تالاب
Chakki Talab کی آراصی پر ناجائز قبضوں کے ذریعہ مکانات تعمیر کئے گئے ۔ یہ معاملہ وقفہ وقفہ سے منظر عام پر آتا ہے پھر نہ جانے سرکاری عہدیادر کیوں چپ ساد لیتے ہیں ۔ نئی ٹی آر ایس حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد تالابوں کی مرمت اور ناجائز قبضوں کو بحال کرنے مہم چلاؤ جارہی ہے ۔ گذشتہ جمعہ کے روز وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے ضلع نظام آباد کا دورہ کیا اور ضلع کے تمام چھوٹے بڑے تالابوں کے تعلق سے معلومات حاصل کی ۔ اس دوران عہدیداروں نے ریاستی وزیر کو بتایا کہ چھکی تالاب کا سروے نمبر 53 ہے اور اس سروے کے تحت 64.25 ایکر اراضی موجود ہے ۔ لیکن تالاب کے پشتہ اور پیٹھے کی تقریباً 28 ایکر اراضی پر ناجائز قبضہ ہوچکے جن پر تقریباً 210 مکانات تعمیر ہوچکے ۔ جن میں شہر بودھن کے ممتاز افراد کے مکانات بھی شامل ہے ۔ اس تالاب کا محل و قوع اس طرح ہے کہ اس میں بلال تالاب کا فاضل پانی چھوڑا جاتا ہے ۔ یہاں چھکی تالاب لبریز ہونے کے بعد اس کا پانی پانڈو تالاب میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں پانڈو تالاب کے تحت موجود تقریباً 600 ایکر زرعی اراضی کو اس تالاب سے پانی سیراب کیا جاتا ہے ۔ چھکی تالاب پر ناجائز قبضہ اور بلال تالاب سے اس تالاب تک پانی پہونچانے موجود شہر پر قبضہ کئے جانے کے باعث چھکی تالاب سکڑتا جارہا ہے ۔ ریاستی سطح پر تالابوں کی مرمت و صفائی کے کاموں کا حکومت کی جانب سے اعلان کئے جانے کے بعد پھر ایک مرتبہ قابضین کی نیندیں حرام ہوگئی ۔ ضلع کلکٹر مسٹر رونالڈروس نے محکمہ مال بودھن کے عہدیداروں کو تالابوں کی تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایت دی ۔ مقامی عہدیدار پھر ایک مرتبہ قابض کی تعداد اکھٹا کرنے میں مصروف ہے ۔