ڈھاکہ ۔ 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے چار مبینہ عسکریت پسند بشمول اس کا علاقائی رابطہ کار جو اکثر ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک کا سفر کرتا رہا ہے۔ اہم عمارتوں پر حملہ کی سازش کرنے اور بنگلہ دیش کو خلافت کی مملکت میں تبدیل کرنے کی کوشش کا الزام ہے، شامل ہے۔ ڈھاکہ کے علاقوں چاترا ہاری اور خلخیل میں علاقوں میں کل رات بھر گھاوں کے دوران چاروں پاکستانی تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار کرلئے گئے۔ پولیس نے کہا کہ گرفتار اکسریت پسندوں نے اعتراف کیا ہیکہ وہ دولت اسلامیہ کے ارکان ہے اور بنگلہ دیش کی اہم عمارتوں پر حملہ کرتے ہوئے ملک میں نیراج پھیلانا چاہتے تھے تاکہ بنگلہ دیش کو خلافت اسلامیہ کی مملکت میں تبدیل کردیا جائے۔ ان تمام افراد میں آئی ایس آئی ایس سے اپنے روابط کا بھی اعتراف کرلیا ہے۔ بنگلہ دیش میں رابطہ کار نیٹ ورکس بھی ضبط کرلئے گئے ہیں۔ مشتبہ رابطہ کار کبیر نے پولیس سے کہا کہ وہ اور دیگر تین افراد پاکستان کے تربیت یافتہ ہیں۔ انہیں ڈھاکہ کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں مزید تفتیش کیلئے 5 دن کی پولیس تحویل میں دے دیا گیا۔ کبیر ڈھاکہ کے سرکاری کالج سے کئی سال قبل گریجویشن کرچکا ہے اور اس نے سب سے پہلے ممنوعہ اسلامی تحریک جماعت المکاہدین بنگلہ دیش نے 2006ء میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سابقہ و پاکستان منتقل ہوگیا اور 2009ء میں دولت اسلامیہ کا کارکن بن گیا۔ وہ اکثر ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک کا دورہ کیا کرتا تھا۔