بلدیہ نندیال میں کونسلرس کے درمیان رسہ کشی

نندیال ۔ 20 ۔ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) 2014 انتخابات کے بعد نندیال بلدیہ میں افسروں کیلئے کام کرنا سر درد ہوگیا ہے ۔ بلدیہ میں 42 کونسلرس ہیں ان میں 29 تلگودیشم کے اور 13 وائی ایس آر کے کونسلرس ہیں ۔ دونوں پارٹیوں سے 13 مسلم کونسلرس ہیں ۔ رکن اسمبلی نندیال ، بھوما ناگی ریڈی وائی سی پی کے ہیں ۔ جبکہ بلدیہ کی چیرمین تلگودیشم کی محترمہ دہشم سلوچنا ہیں ۔ انتخابات کے بعد پہلی کونسل کا ہی جھگڑے سے آغاز ہوا اور مسائل کی یکسوئی کے بغیر اختتام پر پہنچی ۔ اس پہلی کونسل میں رکن اسمبلی بھوماناگی ریڈی بھی موجود تھے ۔ انتخابات سے پہلے رکن اسمبلی بھوماناگی ریڈی نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا ٹریفک سے بچنے کیلئے شہری سڑکوں کی توسیع کی جائیگی لیکن نندیال بلدیہ کونسل اس کے خلاف ہے ۔ اس طرح تلگودیشم اور وائی سی پی کونسلرس کا سڑکوں کی توسیع کو لے کرکمشنر اور سیول انجینئر پر دباؤ ڈالنا ان کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ رکن اسمبلی بھوماناگی ریڈی دو مرتبہ سڑکوں کی توسیع کو لیکر کمشنر اور انجینئر کو ساتھ لے کر سڑکوں کی توسیع کا کام شروع کیا تو تگودیشم کے چیرپرسن اور کونسلرس رکن اسمبلی کے خلاف گاندھی چوک میں دھرنا دیا ۔ رکن اسمبلی آلہ گڈا سڑک حادثہ میں موت ہوئی تھی بعدازاں بھوماناگی ریڈی کی دختر اکھلا پریہ آلہ گڈا کی رکن اسمبلی منتخب ہوگئی ۔ بعدازاں نندیال بلدیہ میں اکٹوبر 27 کو ہوئی کونسل میں شور شرابہ اور مارپیٹ کے حادثہ کو لیکر بھوماناگی ریڈی اور 13 وائی سی پی کے کونسلرس پر کیس درج کیا گیا جس پر آج وہ سب جیل میں ہیں ، رکن اسمبلی نندیال بھوماناگی ریڈی آج بھی حیدرآباد نمس ہاسپٹل میں داخلہ لیکر موجود ہیں ۔ ان دونو پارٹیوں کے لیڈروں کے دباؤ سے بیمار بلدیہ کمشنر رام چندرا ریڈی طبی رخصت پر جانے کی وجہ سے ان کا تبادلہ حیدرآباد سکریٹریٹ کو ہوا اور ان کی جگہ نئے کمشنر ستیہ نارائنا کی پوسٹنگ ہوچکی ہے ۔ اسی طرح بلدیہ انجینئر پانڈورنگاراو کا تبادلہ تنالی ہوچکا ہے ان کی جگہ ستیہ نارائنا جو کرنول سے آکر عہدہ سنبھال چکے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عہدوں پر نندیال کی بلدیہ کی سیاست میں کہاں تک کامیاب ہونگے اور کتنے دن یہاں کام کر پائیں گے ۔