1947ء میں قیام اور 1953ء میں پہلی مرتبہ انتخابات کے بعد کئی نشیب و فراز
ظہیرآباد /16 مارچ (سید منیر کی رپورٹ) متحدہ آندھرا پردیش میں آخری مرتبہ 30 مارچ کو منعقد شدنی بلدی انتخابات ملک میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں اور یہ طے کریں گے کہ بلدیہ ظہیرآباد کا اقتدار کس کے حوالے کیا جائے اور اس کے نتائج ٹھیک ایک ماہ بعد 30 اپریل کو منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی و لوک سبھا انتخابات پر کس حد تک اثر انداز ہوں گے۔ بلدی عوام کو ان انتخابات کا اس وقت سے بے چینی سے انتظار تھا، جب کہ 24 ستمبر 2005ء کو منعقدہ بلدی انتخابات کے ذریعہ منتخبہ کونسل کی میعاد 29 ستمبر 2010ء کو ختم ہو گئی تھی۔ تاریخی اعتبار سے اہمیت کی حامل بلدیہ ظہیرآباد کا قیام آصف جاہی سلطنت کی انڈین یونین میں انضمام سے قبل نواب میر عثمان علی خاں نظام الملک آصف جاہ سابع کے دور حکمرانی میں 3 مارچ 1947ء عمل میں آیا تھا اور اس کے لئے پہلی مرتبہ انتخابات 1953ء میں اس وقت منعقد ہوئے تھے،
جب کہ آصف جاہی سلطنت کی انڈین یونین میں انضمام کے بعد عالم وجود میں آنے والی ریاست حیدرآباد کی اسمبلی کے لئے 1952ء میں پہلی مرتبہ انتخابات کا انعقاد عمل میں آیا تھا اور ان انتخابات میں حلقہ اسمبلی ظہیرآباد سے کانگریس کے آنجہانی قائد گنڈے راؤ منتخب ہوکر ریاستی اسمبلی میں نمائندگی کر رہے تھے۔ جہاں تک بلدیہ ظہیرآباد کی انتخابی تاریخ کا تعلق ہے، اس کی ورق گردانی کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ 1953ء میں پہلی مرتبہ منعقدہ بلدی انتخابات میں مقامی بالغ النظر رائے دہندوں نے ’’نگر سیوا سمیتی‘‘ کے نمائندوں کو شاندار کامیابی دلائی اور پہلی مرتبہ منتخبہ عوامی نمائندوں نے بالواسطہ طورپر آنجہانی اندرا راؤ ایڈوکیٹ کو صدر نشین کی حیثیت سے منتخب کیا، جنھوں نے 1953ء سے 1962ء تک بحیثیت صدر نشین بلدیہ ظہیرآباد کی ہمہ جہتی ترقی میں نمایاں رول ادا کیا۔ اس کے بعد آنجہانی پدما تکیا نے 1963ء تا 1965ء صدر نشین کی حیثیت سے بلدیہ ظہیرآباد میں مختلف ترقیاتی کام انجام دیئے۔ 1965ء تا 1967ء مجلس بلدیہ ظہیرآباد کے انتخابات منعقد نہیں ہوئے اور اسپیشل آفیسر کی راست نگرانی میں ترقیاتی کام انجام پائے۔ 1967ء میں مجلس بلدیہ ظہیرآباد کے انتخابات ہوئے، جس میں منتخبہ نمائندوں نے آنجہانی بنڈا میدی چندریا کو بحیثیت صدر نشین منتخب کیا،
جنھوں نے 1972ء تک اس عہدہ پر فائز رہ کر بلدیہ ظہیر آباد کی توسیع میں ناقابل فراموش رول ادا کیا۔ اس کے بعد ریاست کی کانگریس حکومت نے 1972ء میں مجلس بلدیہ ظہیرآباد کو تحلیل کردیا اور 23 اگست 1981ء تک اسپیشل آفیسر کی زیر نگرانی مختلف ترقیاتی کام انجام دیئے۔ بعد ازاں 1981ء میں ہی بلدی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ ان انتخابات میں شہری کمیٹی، مزدور سنگھ، کانگریس اور مسلم لیگ کے امیدواروں نے حصہ لیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور پہلی مرتبہ کانگریس لیڈر منکال سبھاش کا بالواسطہ طورپر صدر نشین کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا، جنھوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی پنج سالہ میعاد مکمل کی۔ بعد ازاں مجلس بلدیہ یکم جولائی 1986ء کو تحلیل کردی گئی اور بلدی امور کی انجام دہی کے لئے ایک اسپیشل آفیسر کا تقرر عمل میں لایا گیا۔ 1987ء میں آنجہانی چیف منسٹر این ٹی راما راؤ کی زیر قیادت تلگودیشم حکومت کی جانب سے بلدی قوانین میں ترمیم کے باعث صدارتی نشست کے لئے راست انتخابات منعقد ہوئے۔ ان انتخابات میں تلگودیشم امیدوار آنجہانی بنڈا میدی چندریا کو رائے دہندوں نے راست طورپر صدارتی نشست کے لئے منتخب کیا، جنھوں نے اپنی پنج سالہ میعاد میں اپنی خدمات کے ناقابل فراموش نقوش چھوڑے۔ اس کے بعد مجلس بلدیہ کو اسپیشل آفیسر کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ 1995ء میں مجلس بلدیہ ظہیرآباد کو نگر پنچایت کا درجہ دے کر انتخابات منعقد کرائے گئے، جس میں کانگریس امیدوار منکال سبھاش کا چار رخی مقابلہ میں صدر نشین کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا۔
موصوف کے دور اقتدار میں مرکز اور ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ کروڑوں روپئے کے مالیہ سے کئی ترقیاتی کام انجام دیئے گئے۔ انھوں نے 1995ء تا 2000ء اپنی پنج سالہ میعاد کامیابی کے ساتھ تکمیل کی۔ مارچ 2000ء میں منعقدہ بلدی انتخابات میں صدر نشین کے عہدہ کے لئے راست طورپر منعقدہ انتخابات میں الاڈی نرسمہلو منتخب ہوئے، جنھوں نے جولائی 2005ء تک صدر نشین کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد نگر پنچایت کو دو مہینوں کے لئے اسپیشل آفیسر کے حوالے کردیا گیا۔ اس دوران نگر پنچایت کو پھر سے بلدیہ کا درجہ دے کر 24 ستمبر 2005ء میں منعقدہ بلدی انتخابات میں بالواسطہ طورپر مرلی کرشنا گوڑ کا صدر نشین کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا، جنھوں نے 29 ستمبر 2010ء تک بحیثیت صدر نشین کئی ترقیاتی کام انجام دیئے۔ موصوف کے دور صدارت ہی میں مجلس بلدیہ ظہیرآباد کی خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی۔ بعد ازاں ریاستی حکومت نے بلدی انتخابات کا انعقاد عمل میں لانے کی بجائے تاحال بلدیہ ظہیرآباد کو اسپیشل آفیسر کے زیر انتظام رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 30 مارچ 2014ء کو منعقد شدنی بلدی انتخابات کے ذریعہ تشکیل پانے والی نئی کونسل، بلدیہ ظہیرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کو درپیش بلدی مسائل کی یکسوئی کے لئے کس طرح کے اقدامات کرتی ہے۔