بلاٹر کو عزت ملی، رسوا بھی ہوئے ، فیفا کی صدارت کے پھر دعویدار

زیورخ ۔ 27 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپ بلاٹر فٹبال کی گورننگ باڈی میں اپنے 40 سال کے ایک سخت ترین دن سے گذرنے جارہے ہیں ، جہاں بعض گوشوں نے انھیں اس مقبول عام کھیل کے ’مسیحا‘ قرار دیا اور بعض دیگر نے انھیں سرکش شخصیت بتایا جو ہمیشہ اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتی ہے ۔ 79 سالہ شخصیت جو جمعہ کو مقررہ رائے دہی میں فیفا کے صدر کی حیثیت سے پانچویں میعاد جیتنے کیلئے پسندیدہ سمجھی جارہی ہے ، انھوں نے دنیا کے اس مقبول ترین کھیل کو کچھ ایسا بانٹ دیا ہے کہ اس پر پھر ایک بار اسکینڈل کے سائے منڈلاتے دکھائی دینے لگے ہیں تاہم سوئس شخصیت کا ماننا ہے کہ اُن کے کینہ پرور حریفوں کے پاس اُن کے ساتھ مسابقت کیلئے اس کے سوا اب کچھ نہیں رہ گیا کہ محض اعتراضات کئے جائیں ۔ انھوں نے حال میں کہا تھا ، ’’فیفا میں میرے 40 سال کے عرصہ میں میں نے عداوت اور بے اطمینانی کے ساتھ جینا سیکھا ہے ۔ تاہم جیسا کہ جرمن زبان کا مقولہ ہے : ہمدردی آسانی سے مل جاتی ہے لیکن حسد کیلئے محنت کرنا پڑتا ہے ‘‘۔ بہرحال سپ بلاٹر کے معاملے میں حسد کرنے جیسا بہت کچھ ہے ۔ 17 سال سے فیفا کے سربراہ کی حیثیت نے بلاٹر کو دنیا کے نہایت طاقتور شخصیتوں کی فوربس فہرست میں 70 واں مقام دلایا ہے …

جو اس گروپ میں واحد اسپورٹس لیڈر ہیں اور ولادیمیر پوتین اور براک اوباما جیسی شخصیتوں سے کچھ پیچھے ہیں۔ ماضی میں شوقیہ فٹبال کھیلنے والے بلاٹر اپنے دور میں اسٹرائیکر رہے ۔ وہ 1975 ء میں سوئس واچیز کی مارکٹنگ عہدہ سے فیفا میں شامل ہوئے تھے ۔ وہ 1981 ء میں سکریٹری جنرل بنے اور 1998 ء میں اعلیٰ منصب کے لئے منتخب ہوکر برازیلی یوواؤ ہیولانگے کے جانشین بنے ، جن کی انھوں نے پرخلوص انداز میں خدمت کی تھی ۔ یہ اتفاق ہے کہ وہ بھی آگے چل کر متنازعہ شخصیت بن گئے تھے اور اُن کی 24 سالہ میعاد آخرکار بلاٹر کے انتخاب کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ۔ بلاٹر کے ناقدین میں ارجنٹائن کے ڈیگو مارا ڈونا نمایاں ہے۔