بشمول پاکستانی کابینہ تمام معاملات پر فیصلے کو قطعیت

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری کی پریس کانفرنس
اسلام آباد۔13 اگست سیاست ڈاٹ کام) عمران خان زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف پارٹی نے تمام معاملات بشمول نئی حکومت کی تشکیل کو قطعیت دے دی ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے آج کہا کہ 20 محفوظ نشستیں برائے خواتین اور 5 برائے غیر مسلم ارکان الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق تحریک انصاف کے قائدین جن کی تعداد قومی اسمبلی میں 158 ہے، سادہ اکثریت کے لیے ضروری تعداد سے کم ہے۔ تحریک کے ترجمان فواد چودھری نے ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں تمام معاملات بشمول تشکیل حکومت اور پاکستانی کابینہ کو قطعیت دے دی ہے۔ ہم نے اپوزیشن پارٹیوں سے ابتداء میں ہی درخواست کی تھی کہ نئی روایت اور کام حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعہ کیا جانا چاہئے۔ وہ قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ صدرنشین تحریک عمران خان نے قومی اسمبلی کی سب سے وسیع پارٹی کی حیثیت سے ملک کے آئندہ وزیراعظم کو نامزد کیا ہے اور امکان ہے کہ وہ 18 اگست کو حلف لیں گے۔ قوم نے اپنی امیدیں عمران خان سے وابستہ کر رکھی ہیں اور ہم بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں۔ نائب صدر تحریک شاہ محمد قریشی نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ پارٹی ممکنہ حد تک بہترین کوشش کرے گی کہ عوام کی توقعات پر پوری اترے۔ ہم دن رات محنت کریں گے تاکہ ملک کے مسائل حل کرسکیں۔ قریشی نے کہا کہ وہ آئندہ وزیر خارجہ مقرر کیے جانے کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان وزیراعظم بننے کے بعد کہاں قیام کریں گے اس کا فیصلہ جلد ہی کیا جائے گا۔ دریں اثناء ایک حیران کن اقدام کرتے ہوئے تحریک انصاف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے ربط پیدا کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی نئی حکومت تشکیل دینے سے پہلے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مرکز اور ملک کے صوبائی گورنروں کو بھی حلف برداری میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کا وفد بشمول خیبر پختون خواہ سابق چیف منسٹر پرویز خٹق، متوقع اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، فواد چودھری اور عمر ایوب خان سبکدوش ہونے والے اسپیکر ایاض صادق پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں شامل تھے۔